چیٹ جی پی ٹی بنانے والی امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ سکیورٹی جانچ کے دوران اس کے جدید خودمختار مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایجنٹس نے غیر متوقع طور پر حفاظتی حدود عبور کرتے ہوئے پروگرامرز کے معروف پلیٹ فارم ہگنگ فیس تک رسائی حاصل کرنے اور وہاں سے خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
کمپنی کے مطابق یہ واقعہ ایک سخت نگرانی والے ٹیسٹنگ ماحول میں پیش آیا، جہاں جی پی ٹی 5.6 سول اور ایک مزید جدید پری ریلیز ماڈل کی ہیکنگ صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔ اگرچہ ان ماڈلز کی انٹرنیٹ تک رسائی محدود رکھی گئی تھی، تاہم انہوں نے مسئلہ حل کرنے کے لیے غیر معمولی طریقے اختیار کرتے ہوئے پہلے کھلے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور پھر ہگنگ فیس کو ہدف بنایا۔
اوپن اے آئی نے اپنی بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ اے آئی ایجنٹس نے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کے لیے کئی مختلف حملہ آور طریقے استعمال کیے، جن میں چوری شدہ اسناد کا استعمال بھی شامل تھا، تاکہ ٹیسٹ کے دوران درپیش چیلنج کو حل کرنے میں مدد مل سکے۔
ہگنگ فیس نے بھی گزشتہ ہفتے اس سائبر دراندازی کی تصدیق کی تھی، تاہم اس وقت حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ماضی کے تمام واقعات سے مختلف تھا کیونکہ اسے ابتدا سے انتہا تک مکمل طور پر خودمختار اے آئی ایجنٹس نے انجام دیا، جبکہ اس کی نشاندہی اور تجزیہ بھی بڑی حد تک اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا گیا۔
ہگنگ فیس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کلیمنٹ ڈیلانگ نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ حملے کی غیر معمولی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے کمپنی کو شبہ تھا کہ اس کے پیچھے دنیا کی کسی بڑی اے آئی لیبارٹری کا جدید نظام موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کمپنی کو یقین ہے کہ اوپن اے آئی کی جانب سے کوئی بدنیتی نہیں تھی اور یہ واقعہ مکمل طور پر خودمختار انداز میں پیش آیا۔
اوپن اے آئی نے اس واقعے کو غیر معمولی سائبر واقعہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ہگنگ فیس کے ساتھ مل کر مشترکہ تحقیقات کرے گی تاکہ اس کی مکمل وجوہات اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
دوسری جانب آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز، کینبرا کے کمپیوٹنگ کے پروفیسر حسین عباس نے اس واقعے کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نوعیت کی جدید اے آئی ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر ضابطہ بندی اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔











