اہم ترین

شدید گرمی اور ہیٹ ویو: فرانس میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کی تصدیق

مغربی یورپ میں رواں موسم گرما کے دوران شدید گرمی کی لہروں نے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کو متاثر کیا ہے، جبکہ صرف فرانس میں ہیٹ ویو کے باعث معمول کی اوسط اموات سے تقریباً 6 ہزار زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 17 جون سے 2 جولائی تک جاری رہنے والی شدید گرمی کے دوران ملک میں 5 ہزار 764 اضافی اموات ہوئیں۔ یہ وہ ہلاکتیں ہیں جو شدید گرم موسم کے اثرات کے باعث معمول کی اموات کی شرح سے زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں فرانس میں اموات کی شرح معمول کے مقابلے میں تقریباً 36 فیصد زیادہ رہی۔ اس سے قبل فرانسیسی وزیر صحت نے جون کے اختتام تک گرمی کے باعث اضافی اموات کی تعداد 2 ہزار 25 بتائی تھی، تاہم تازہ رپورٹ میں یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ سامنے آئی ہے۔

مغربی یورپ کے کئی ممالک اس موسم گرما میں بار بار شدید گرمی کی لپیٹ میں آئے ہیں۔ بلند درجہ حرارت کے باعث نہ صرف انسانی صحت کو خطرات لاحق ہوئے بلکہ کئی علاقوں میں جنگلاتی آگ کے واقعات بھی پیش آئے۔

ماہرین صحت کے مطابق شدید گرمی خاص طور پر بزرگ افراد، بچوں، دل اور سانس کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ گرمی کی طویل لہروں کے دوران جسم پر دباؤ بڑھنے سے اموات میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

فرانس سمیت کئی یورپی ممالک میں حکومتوں نے شہریوں کو شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی ایک نمایاں علامت ہے۔

رواں موسم گرما میں یورپ کے مختلف حصوں میں شدید گرمی، جنگلاتی آگ اور موسمی شدت کے دیگر واقعات نے ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔

پاکستان