امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر اب تک امریکہ کو تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ کرنا پڑ چکے ہیں۔ انہوں نے پینٹاگون کے لیے 67 ارب ڈالر سے زائد اضافی فنڈز کی درخواست کا بھی دفاع کیا۔
سینیٹ کی سماعت کے دوران پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا کہ اضافی مالی وسائل فوری اور ضروری ہیں تاکہ ستمبر کے اختتام تک ایران جنگ سے متعلق امریکی محکمہ دفاع کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
تاہم امریکی قانون سازوں نے حکومت کی جنگی پالیسی اور بڑھتے ہوئے اخراجات پر سوالات اٹھائے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر جین شاہین نے پوچھا کہ امریکی عوام پر ایسی جنگ کا مالی بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے جسے بڑی تعداد میں لوگ پسند نہیں کرتے، جبکہ پہلے سے موجود غیر استعمال شدہ دفاعی فنڈز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
شاہین کے مطابق وزیر دفاع کے پاس تقریباً 75 ارب ڈالر غیر استعمال شدہ فنڈز موجود ہیں۔ اس پر ہیگستھ نے جواب دیا کہ یہ رقوم پہلے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دیگر دفاعی ترجیحات، جن میں ’’گولڈن ڈوم فار امریکہ‘‘ منصوبہ، ہائپرسونک ہتھیار اور دیگر فوجی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری شامل ہے، کے لیے مختص کی جا چکی ہیں۔
سماعت کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان نے ایران جنگ سے متعلق حکمت عملی، شفافیت اور مستقبل کے منصوبوں پر مزید وضاحت کا مطالبہ کیا۔ ریپبلکن سینیٹر جان کینیڈی نے کہا کہ کانگریس کو واضح اور دوٹوک جوابات درکار ہیں، خصوصاً اس حوالے سے کہ اگر امریکہ آبنائے ہرمز سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس کے کیا نتائج ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے، تاہم ان کے مطابق تہران فی الحال سفارتی حل کے لیے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتا۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ اگر ایران اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرے اور سنجیدگی دکھائے تو امریکہ مثبت اور تعمیری مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو واشنگٹن اپنے اور اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
روبیو نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کو اس عالمی آبی راستے پر مکمل کنٹرول قائم کرنے، جہازوں سے محصول لینے یا گزرنے سے روکنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس سے دنیا بھر میں خطرناک مثال قائم ہو سکتی ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل گیارہویں رات بھی کارروائیوں کا اعلان کیا، جبکہ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔











