الاقوامی نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان کی جانب سے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو ارسال کی گئی درخواست میں دونوں ممالک کے درمیان پانچ سالہ مالیاتی تعاون کے ایک خصوصی انتظام کی سفارش کی گئی ہے۔
اگر اس درخواست کو منظوری مل جاتی ہے تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے، روپے پر دباؤ میں کمی آئے گی اور بیرونی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی امریکی وزارت خزانہ کی ایک غیر معمولی مالی معاونت ہے، جو عام طور پر ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد ایسے ممالک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینا، کرنسی کے استحکام کو برقرار رکھنا اور مالیاتی بحرانوں کے اثرات کو کم کرنا ہوتا ہے۔ یہ سہولت ڈالر، کرنسی سواپ یا حکومتی ضمانتوں کی مختلف صورتوں میں دی جا سکتی ہے۔
یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کی اہمیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے ممکنہ ثالثی کردار نے بھی امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی ہے، جس کے تناظر میں اس مالی تعاون کو صرف اقتصادی نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی اور سیاسی پیش رفت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اس درخواست کو قبول کرتا ہے تو اس سے عالمی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھ سکتا ہے، ملک کی مالی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے اور مستقبل میں بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اقدام پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً آئی ایم ایف، پر انحصار کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اس وقت پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت سخت معاشی اصلاحات پر عمل کر رہا ہے۔ حکومت نے مالی خسارہ کم کرنے، ٹیکس وصولیوں میں اضافے، غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے اور معاشی نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اگرچہ ان اصلاحات سے معیشت میں کچھ استحکام آیا ہے، لیکن عوام کو مہنگائی، زیادہ ٹیکسوں اور ترقیاتی اخراجات میں کمی جیسے چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان کی معیشت کو درپیش بنیادی مسائل میں کم غیر ملکی سرمایہ کاری، پالیسیوں میں عدم تسلسل، سکیورٹی خدشات، محدود برآمدات، کمزور کریڈٹ ریٹنگ اور بیرونی قرضوں پر زیادہ انحصار شامل ہیں۔ یہی عوامل بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے کم لاگت پر قرض حاصل کرنے میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔
حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے امریکا کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کرپٹو کرنسی، معدنیات، ریئل اسٹیٹ اور دیگر شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاری اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔
اسی سلسلے میں پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی، جس میں خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور اس کے پاکستانی معیشت پر ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم پاکستانی وزارت خزانہ کے جاری کردہ سرکاری بیان میں 10 ارب ڈالر کی اس درخواست کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ امریکی وزارت خزانہ نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
مجموعی طور پر اگر امریکا پاکستان کی اس درخواست کو منظور کرتا ہے تو یہ نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کے استحکام کے لیے ایک بڑی مالی معاونت ثابت ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے اعتماد، اقتصادی استحکام اور سفارتی اہمیت میں اضافے کا بھی باعث بن سکتی ہے۔










