دنیا بھر میں اگرچہ سگریٹ نوشی کی شرح گزشتہ کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، لیکن سوشل میڈیا، فیشن اور شوبز کی دنیا میں سگریٹ کو ایک بار پھر فیشن اسٹیٹمنٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس پر صحت کے ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں کائلی جینر، دعا لیپا اور دیگر ہالی ووڈ شخصیات مختلف تقریبات، فیشن شوٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس میں سگریٹ کے ساتھ نظر آئے ہیں۔ اسی رجحان کے باعث نوجوانوں میں اسموکنگ پوز کی مقبولیت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 18 سے 24 سال کے نوجوانوں میں پنٹرسٹپر اسموکنگ پوز کی تلاش میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ انسٹاگرام پر جیسے اکاؤنٹس مشہور شخصیات کی سگریٹ نوشی کی تصاویر شیئر کر کے اس رجحان کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔
انسدادِ تمباکو تنظیم ٹروتھ انیشی ایٹیو کی نائب صدر جیسیکا ریتھ کا کہنا ہے کہ پاپ کلچر میں سگریٹ نوشی کو پرکشش انداز میں پیش کرنا نوجوانوں کو تمباکو نوشی کی طرف مائل کر سکتا ہے اور وہ افراد بھی متاثر ہو سکتے ہیں جو سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تنظیم کے مطابق رواں سال بہترین فلم کے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد 10 میں سے 8 فلموں میں تمباکو نوشی کے مناظر شامل تھے، جبکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے مناظر دیکھنے والے نوجوانوں میں سگریٹ یا دیگر تمباکو مصنوعات استعمال کرنے کا امکان دو سے تین گنا بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق 1990 اور 2000 کی دہائی کے فیشن اور طرزِ زندگی کی واپسی بھی اس رجحان کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی دباؤ، معاشی غیر یقینی صورتحال اور سوشل میڈیا کے دباؤ کے باعث بعض نوجوان نکوٹین کو ذہنی سکون کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں، حالانکہ طبی ماہرین کے مطابق یہ بے چینی، ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
صحت کے ماہرین نے حکومتوں، فلم انڈسٹری اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زور دیا ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کو گلیمرائز کرنے کے بجائے اس کے نقصانات سے متعلق مؤثر آگاہی مہم چلائیں تاکہ گزشتہ کئی دہائیوں میں تمباکو نوشی کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیاں متاثر نہ ہوں۔











