اہم ترین

ملک میں تیار کردہ ای وی موٹر سائیکلوں میں غیر معیاری بیٹریوں کے استعمال کا انکشاف

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں ملک میں الیکٹرک موٹر سائیکل انڈسٹری کے معیار، حفاظتی ضوابط اور ریگولیٹری نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ مارکیٹ میں متعدد غیرقانونی الیکٹرک موٹر سائیکل مینوفیکچررز سرگرم ہیں، جبکہ ای وی موٹر سائیکلوں کی سیفٹی اور بیٹریوں کے معیار سے متعلق سنگین خدشات موجود ہیں۔

سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ معیارات کا تعین صرف پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے ) کی ذمہ داری ہے، تاہم ان معیارات پر عملدرآمد کے لیے کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں گاڑیوں کے معیار کی جانچ کے لیے جامع ٹیسٹنگ لیبارٹری موجود نہیں، جبکہ استعمال شدہ گاڑیوں کے لیے پری شپمنٹ انسپیکشن اور کوالٹی سرٹیفکیٹ لازمی ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ پی ایس کیو سی اے گاڑیوں کی جانچ کے لیے لیبارٹری قائم کرنے میں ناکام رہی، جبکہ ناز بلوچ نے کہا کہ اگر مینوفیکچررز سے خود اپنا معیار پوچھا جائے تو وہ خود کو دس میں سے دس نمبر دیں گے، اس لیے آزادانہ جانچ ناگزیر ہے۔

سپیشل سیکرٹری صنعت و پیداوار نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیوں کے معیار کی جانچ کے لیے مناسب سہولیات دستیاب نہیں، جبکہ حادثات میں ایئر بیگز نہ کھلنے کی شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے حکام نے بتایا کہ موٹر سائیکلوں کی جانچ کے لیے دو لیبارٹریاں موجود ہیں اور لمز میں قائم لیبارٹری ای وی موٹر سائیکلوں کی بیٹریوں کا معیار جانچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معیارات کی تصدیق پی ایس کیو سی اے کی ذمہ داری ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض کمپنیوں کی جانب سے لیتھیم بیٹری کے بجائے غیر معیاری یا تیزاب والی بیٹریاں استعمال کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ناز بلوچ نے مطالبہ کیا کہ ایسی کمپنیاں فوری طور پر بند کی جائیں، جبکہ حکومت کی پالیسی کے مطابق صرف لیتھیم بیٹریوں کے استعمال کو فروغ دیا جانا چاہیے۔

موٹرسائیکل کمپنیوں کے نمائندوں نے کہا کہ پاکستان میں جاری ہونے والی کوالٹی سرٹیفکیشن عالمی سطح پر قابلِ قبول نہیں، جس کی وجہ سے مقامی موٹر سائیکلوں کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق الیکٹرک بیٹری موٹر سائیکل کی مجموعی قیمت کا تقریباً 40 فیصد ہوتی ہے، جبکہ بیٹریوں اور الیکٹرک موٹرز کی واٹر پروفنگ جانچنے کے لیے جدید لیبارٹریوں کا قیام ضروری ہے۔

پاکستان