تہران: ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ فوج نے کہا ہے کہ وہ ہر قسم کے خطرات اور دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایران عراق جنگ کے آخری مرحلے کی اہم لڑائی آپریشن مرصاد کی برسی کے موقع پر جاری بیان میں ایرانی فوج نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ چوکس ہے اور ملک کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق فوج نے واضح کیا کہ دشمن کی کسی بھی نئی جارحیت کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جمعہ اور ہفتہ کو مذاکرات ہوئے، جن میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے انتظام پر مفید بات چیت کی گئی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ بدستور بند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں۔
اسماعیل بقائی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایران کے خلاف حالیہ جنگ میں امریکہ کے ساتھ بعض مشرق وسطیٰ کے ممالک نے بھی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران امریکی فوجی کارروائیوں کا بنیادی ذمہ دار امریکہ کو سمجھتا ہے، تاہم بعض علاقائی ممالک کی شمولیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے، البتہ کہا کہ ایران توقع کرتا ہے کہ وہ مستقبل میں امریکہ کے ساتھ ایران مخالف اقدامات میں تعاون نہیں کریں گے۔











