ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کے لیے 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 2 ہزار 84 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
پریس کانفرنس میں سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2026 میں بم دھماکوں کے 28 واقعات رپورٹ ہوئے۔بم دھماکوں کے واقعات میں زیادہ تر افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ بلوچستان میں 31 ہزار 80، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں 2 ہزار 91 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو واضح پیغام دیا جا چکا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈالیں یا ریاستی کارروائی کا سامنا کریں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، ریاست کی رٹ قائم ہے اور ریاستی ادارے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہاں حالات مسلسل خراب ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بعض سرداروں اور ایلیٹ طبقے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہیں، حقوق کی بات کرنے والوں کو اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔










