امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا کمپنی نے ٹروتھ اے پی آئی کے نام سے ایک نئی بامعاوضہ سروس متعارف کرائی ہے، جس کے تحت سبسکرائبرز کو ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹس عام صارفین سے پہلے دیکھنے کی سہولت دی جائے گی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سروس کی ماہانہ فیس 60 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر کے درمیان ہے، جبکہ لانچ کے فوراً بعد کئی ٹریڈنگ کمپنیوں نے اس کی رکنیت حاصل کر لی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ٹرمپ اپنی پوسٹس کے ذریعے ٹیرف، خارجہ پالیسی اور دیگر اہم حکومتی فیصلوں کا اعلان کرتے ہیں، اس لیے چند سیکنڈ پہلے معلومات ملنا مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کے لیے بڑا فائدہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اس اقدام پر شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے مفادات کے ٹکراؤ اور صدارتی منصب کے ذاتی مالی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ سینیٹر مارک وارنر نے اس حوالے سے قانون سازی کا بل پیش کر دیا ہے، جبکہ سینیٹر الزبتھ وارن اور ایڈم شف نے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے تنقید کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی معاشی پالیسیوں سے سب کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ تاہم ایک حالیہ رائے عامہ کے سروے کے مطابق اکثریت کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں رہتے ہوئے ذاتی مالی مفادات کے حصول میں حد سے زیادہ پیش رفت کی ہے۔











