پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اس کی ترجیح امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا پرامن اور سیاسی حل ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ آبنائے ہرمز سے متعلق بحری مسائل میں بھی بہتری آنے کی توقع ہے۔ پاکستان ہر ایسی پیش رفت کا خیرمقدم کرے گا جو مذاکرات اور مفاہمت کو آگے بڑھائے۔
ترجمان نے اس تاثر کو بھی تقویت دی کہ اسلام آباد کی نظر بحران کی شدت پر نہیں بلکہ اس کے مستقل سیاسی تصفیے پر ہے۔ ناکہ بندی اور بحری راستوں کا مسئلہ تنازع کا صرف ایک پہلو ہے، اصل اہمیت اس معاہدے کی ہے جو خطے میں پائیدار استحکام لا سکے۔
غزہ کی صورتحال پر پاکستان نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی امن منصوبے میں صرف حماس کی غیر مسلحی کافی نہیں، بلکہ اسرائیل پر بھی لازم ہے کہ وہ غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں سے انخلا کرے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پاکستان کے دورے کی دعوت کی تصدیق بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط معمول کے مطابق جاری ہیں اور دورے سے متعلق معاملات متعلقہ سفارتی چینلز کے ذریعے آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔










