اہم ترین

ایران کی امریکی حملے روکنے کے لئے خلیجی ممالک کو توانائی تنصیبات پر بمباری کی دھمکی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ایران نے خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واشنگٹن کو مزید فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے سعودی عرب، قطر، ترکی اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کو اعلیٰ سطحی سفارتی ذرائع سے پیغامات پہنچائے ہیں، جن میں امریکا کو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر آمادہ کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں امریکی کارروائیوں کے لیے ان کی سرزمین یا سہولتیں استعمال ہوئیں تو صورتحال کے اثرات پورے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔ تہران نے مبینہ طور پر یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں تیل کی تنصیبات، بجلی کے نظام، پانی کے منصوبوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ایران کی حکمت عملی بظاہر یہ ہے کہ ممکنہ تنازع کو صرف امریکا اور ایران کے درمیان معاملہ نہ رہنے دیا جائے بلکہ اسے علاقائی بحران کے طور پر پیش کیا جائے، تاکہ خلیجی ممالک واشنگٹن پر سفارتی دباؤ بڑھائیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رہنے اور مثبت پیش رفت کا عندیہ دیا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں، جن میں بحری سلامتی، آبنائے ہرمز اور دیگر علاقائی امور شامل ہیں۔

خلیجی ممالک اس صورتحال میں محتاط پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایک طرف وہ امریکا کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات رکھتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچنے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔

تازہ کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ خلیج فارس کے راستوں میں کسی بھی رکاوٹ سے تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ ماضی میں بھی خطے میں حملوں اور کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں اور عالمی تجارت پر اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارت کاری کو اہمیت حاصل ہے، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان بیانات اور اقدامات میں تضاد کے باعث بحران کے مکمل خاتمے کے امکانات اب بھی غیر یقینی ہیں۔

پاکستان