اہم ترین

اے آئی کے غلط استعمال کے خلاف بالی ووڈ ستاروں کی قانونی جنگ تیز: تبو بھی عدالت پہنچ گئیں

دلیر مہندی، امیتابھ بچن ، ایشوریہ رائے اور دیگر کی طرح بالی ووڈ کی معروف اداکارہ تبو نے بھی اپنے شخصی حقوق کے تحفظ کے لیے دہلی ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ اداکارہ نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے اپنے نام، تصویر، شناخت اور شخصیت سے متعلق عناصر کے غیر مجاز استعمال کے خلاف قانونی تحفظ مانگا ہے۔

رپورٹس کے مطابق تبو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی معروف شخصیت کی شناخت کو غلط انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے شہرت، ساکھ اور ذاتی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

شخصی حقوق سے مراد کسی فرد کا یہ قانونی حق ہے کہ اس کے نام، تصویر، آواز، انداز اور شناختی خصوصیات کو اس کی اجازت کے بغیر تجارتی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ بھارتی عدالتیں حالیہ برسوں میں کئی معروف شخصیات کے مقدمات میں ان حقوق کے تحفظ پر فیصلے دے چکی ہیں۔

تبو کی درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بالی ووڈ اور دیگر شعبوں کی معروف شخصیات مصنوعی ذہانت، ڈیپ فیک ویڈیوز، جعلی پروفائلز اور آن لائن مواد کے ذریعے شناخت کے غلط استعمال کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر رہی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل دور میں سلیبریٹیز کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان کی تصاویر، آواز اور نام کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کر کے ایسے مواد میں استعمال کیا جا سکتا ہے جو ان کی اجازت یا مرضی کے بغیر تیار کیا جاتا ہے۔

دہلی ہائیکورٹ اس سے قبل بھی متعدد معروف شخصیات کے شخصی حقوق کے مقدمات میں نام، تصویر اور شناخت کے غیر مجاز استعمال کو روکنے کے احکامات جاری کر چکی ہے۔

تبو کی درخواست کو بھی اسی بڑھتے ہوئے قانونی رجحان کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں فنکار اپنی ڈیجیٹل شناخت اور عوامی تشخص کے تحفظ کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہی

پاکستان