اہم ترین

زمین کے گرد بڑھتا خلائی ملبہ عالمی خطرہ بننے لگا

زمین کے گرد گردش کرنے والے سیٹلائٹس اور خلائی ملبے (اسپیس جنک) میں تیزی سے اضافے نے عالمی خلائی سلامتی کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس کے پیش نظر برطانیہ کی چلبولٹن آبزرویٹری چوبیس گھنٹے مدار میں موجود اشیا کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ ممکنہ تصادم اور دیگر خطرات سے بروقت آگاہ کیا جا سکے۔

برطانیہ کی قومی خلائی لیبارٹری آر اے ایل اسپیس کے زیر انتظام یہ رصدگاہ جدید ریڈار نظام کے ذریعے برطانوی لائسنس یافتہ سیٹلائٹس، ناکارہ راکٹوں، غیر فعال سیٹلائٹس اور خلائی ملبے کے لاکھوں ٹکڑوں کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی ملبہ فعال سیٹلائٹس، مواصلاتی نظام اور مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ بن چکا ہے۔

یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق اس وقت زمین کے مدار میں 46 ہزار سے زائد بڑے خلائی ملبے کے ٹکڑے موجود ہیں، جن کا مجموعی وزن تقریباً 17 ہزار ٹن ہے۔ اگرچہ ان میں سے زیادہ تر کسی چیز سے نہیں ٹکراتے، تاہم ایک بھی تصادم بڑے پیمانے پر نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

برطانوی خلائی ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ مدار میں سیٹلائٹس کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس وقت تقریباً 14 ہزار سیٹلائٹس زمین کے گرد گردش کر رہے ہیں، جبکہ آئندہ برسوں میں ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی بھیڑ کے باعث خلائی تصادم کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

چلبولٹن آبزرویٹری کی فراہم کردہ معلومات برطانیہ کے نیشنل اسپیس آپریشنز سینٹر کو بھیجی جاتی ہیں، جہاں ممکنہ تصادم کی پیشگی نشاندہی، دوبارہ زمین کے ماحول میں داخل ہونے والے خلائی ملبے کی نگرانی اور سیٹلائٹ آپریٹرز کو بروقت انتباہ جاری کیا جاتا ہے۔ ادارہ ہر ماہ ہزاروں ممکنہ تصادم سے متعلق وارننگز بھی جاری کرتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلائی ملبے میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو مستقبل میں “کیسلر سنڈروم” جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس میں ایک تصادم مزید کئی تصادم کا سبب بنتا ہے اور زمین کا مدار خلائی سرگرمیوں کے لیے انتہائی خطرناک بن سکتا ہے۔

رصدگاہ صرف سیٹلائٹس ہی نہیں بلکہ شہابیوں اور سیارچوں کی نگرانی بھی کرتی ہے۔ برطانیہ گزشتہ برس انٹرنیشنل ایسٹرائیڈ وارننگ نیٹ ورک میں شامل ہوا تھا، جہاں ناسا اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ایسے بڑے خلائی اجسام پر نظر رکھی جاتی ہے جو مستقبل میں زمین کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافے کے باعث اب خلا کو محفوظ رکھنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط نگرانی اور بین الاقوامی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

پاکستان