اہم ترین

ایران کے خلاف لڑائی میں امریکی ترجیح بدل گئی؛اولین ہدف تیل کی قیمتوں میں کمی

ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کی ترجیحات تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اس وقت واشنگٹن کی پہلی ترجیح ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا نہیں بلکہ امریکی عوام کے لیے پٹرول اور تیل کی قیمتوں کو کم رکھنا ہے۔

امریکی نیوز چینل فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کی سب سے پہلی کوشش یہ ہے کہ ملک بھر میں عوام کو تیل اور گیس مناسب قیمت پر دستیاب رہے، جبکہ دوسری ترجیح یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔

امریکی نائب صدر کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی اہمیت واشنگٹن کے لیے مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی آمدورفت تقریباً بند کیے جانے کے بعد عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی اور امریکا سمیت مختلف ممالک میں ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔

ایران نے آبنائے ہرمز کو جنگ کے تناظر میں اپنے لیے اہم سفارتی دباؤ کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے جنگ سے نکلنے کا راستہ بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ امریکا میں پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث جنگ کی مقبولیت متاثر ہونے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو سیاسی نقصان کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر مزید سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو ایسی اقتصادی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی دنیا نے پہلے مثال نہیں دیکھی۔ ان کے مطابق نئی معاشی پابندیوں کا اعلان آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے کسی معاہدے کے جلد ہونے کی امید ظاہر کی تھی، تاہم اب امریکی انتظامیہ کا مؤقف زیادہ سخت دکھائی دے رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق واشنگٹن فی الحال ایران کے خلاف کم شدت کے ساتھ دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے اور تہران کی شدید مہنگائی اور مالی مشکلات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ کے کئی ماہ کے دوران امریکی فوج نے اربوں ڈالر مالیت کے جدید میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کے ذخائر استعمال کیے ہیں، جس کے باعث واشنگٹن کے لیے دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے کے آپشنز بھی محدود ہوئے ہیں۔

ادھر ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے کئی شرائط پیش کردی ہیں، جن میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، پابندیاں اٹھانا، منجمد اثاثے بحال کرنا اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ شامل ہے۔

یہ شرائط جون میں طے پانے والی مجوزہ مفاہمت کی یادداشت میں شامل نکات سے ملتی جلتی ہیں، تاہم بعد میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے باعث یہ مفاہمت ناکام ہوگئی تھی۔ اس منصوبے میں ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کے قیام کی تجویز بھی شامل تھی۔

پاکستان