اہم ترین

موسمیاتی تبدیلی: پاکستان میں کھجورکے کسان اور مزدور بڑھتی شدید گرمی سے پریشان

سندھ میں کھجوروں کا سیزن شروع ہوتے ہی شدید گرمی نے مزدوروں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ خیرپور میں کھجور کی کٹائی اور اسے خشک کرنے کے عمل سے وابستہ مزدوروں کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ گرمی کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور سخت جسمانی مشقت کے دوران کام کرنا مزید دشوار ہوگیا ہے۔

سندھ میں کھجور کا سیزن عموماً جولائی میں شروع ہوتا ہے، جب کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرجاتا ہے۔ مزدور شدید گرمی سے بچنے کے لیے سورج طلوع ہونے سے پہلے کام شروع کرتے ہیں اور دن کے اوقات میں وقفوں کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، تاہم دوپہر کی تپش ان کے لیے شدید آزمائش بن جاتی ہے۔

خیرپور ضلع ملک کی کھجور کی پیداوار میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کی مجموعی پیداوار کا نصف سے زائد حصہ اسی خطے سے حاصل ہوتا ہے۔ کھجور کی صنعت ہزاروں کسانوں اور موسمی مزدوروں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔

ایک دہائی سے زائد عرصے سے کھجور کی فصل پر کام کرنے والے محمد ادریس کے مطابق پہلے گرمی کی شدت نسبتاً کم محسوس ہوتی تھی، تاہم اب موسم انتہائی سخت ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے باعث مزدور اکثر بیمار پڑتے ہیں اور ہیٹ اسٹروک، بے ہوشی اور بخار جیسی شکایات عام ہیں۔

مزدوروں کے مطابق شدید گرمی سے بچنے کے لیے وہ رات تقریباً دو بجے کھجور کے باغات میں پہنچ جاتے ہیں تاکہ دن کی تپش شروع ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ کام مکمل کیا جاسکے۔ اس کے باوجود انہیں شام تک وقفوں کے ساتھ سخت محنت جاری رکھنا پڑتی ہے۔

محمد ادریس نے بتایا کہ وہ روزانہ تقریباً 1200 روپے کماتے ہیں۔ ان کے کام میں درختوں سے کھجوریں اتارنا، انہیں ٹرالیوں کے ذریعے مخصوص مقام تک پہنچانا اور پھر کھجوروں کو کھلے شعلے پر ابالنے کے بعد دھوپ میں خشک کرنا شامل ہے۔

پاکستان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور صنعت سے وابستہ اندازوں کے مطابق ملک سالانہ 120 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی کھجوریں برآمد کرتا ہے۔

کھجور کے کاشتکار بھی بدلتے موسموں کو فصل کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک کاشتکار کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث مون سون کی غیر معمولی بارشوں نے کھجور کی پیداوار کو متاثر کیا ہے اور کسانوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ ملک میں حالیہ برسوں کے دوران شدید گرمی کی لہروں، بے قاعدہ مون سون بارشوں اور تباہ کن سیلابوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

پاکستان