انڈونیشیا کے مغربی جزیرے سماٹرا میں ہفتے کی رات 6.9 شدت کا زلزلہ آیا، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل مشرقی جزیرے فلوریس میں 7.7 شدت کے طاقتور زلزلے نے تباہی مچا دی۔ فلوریس میں مختلف علاقوں سے کم از کم 38 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ کئی افراد ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق سماٹرا میں آنے والے 6.9 شدت کے زلزلے کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل فلوریس کے قریب آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری رہیں اور ملبے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی جاتی رہی۔
انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر ایجنسی کے ایک عہدیدار کے مطابق جزیرے کے چار مختلف قصبوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پڑوسی ضلع منگّارائی میں دو افراد کے ملبے تلے زندہ پھنسے ہونے کی بھی اطلاع ملی۔
ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مشکلات پیش آ رہی ہیں، کیونکہ کئی سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنا ہے۔
زلزلے کے مرکز کے قریب واقع علاقے ناگیکیو میں شہریوں نے سمندر کی سطح پیچھے ہٹنے کے بعد ممکنہ سونامی کے خدشے کے پیش نظر بلند مقامات کا رخ کیا۔ انڈونیشیا کی موسمیاتی، آب و ہوا اور جیو فزکس ایجنسی نے ابتدائی طور پر سونامی کی وارننگ جاری کی، جسے بعد میں ختم کر دیا گیا، تاہم سمندر کی سطح پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
زلزلے کے بعد درجنوں آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جن میں سب سے شدید جھٹکے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ متاثرہ اور نقصان زدہ عمارتوں میں واپس نہ جائیں، کیونکہ مزید جھٹکوں سے عمارتیں منہدم ہو سکتی ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق شدید جھٹکوں کے دوران لوگ خوف زدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے اور محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوئے۔ بعض مقامات پر عمارتوں کی دیواروں میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات بھی ہیں۔
فلوریس سمیت انڈونیشیا کا بیشتر علاقہ بحرالکاہل کے رنگ آف فائر میں واقع ہے، جہاں زیرِ زمین پلیٹوں کی سرگرمی کے باعث زلزلے عام ہیں۔
فلوریس میں 1992 میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد سونامی آیا تھا جس میں تقریباً 2,500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2004 میں سماٹرا کے قریب 9.1 شدت کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں آنے والے سونامی نے خطے میں تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار افراد کی جان لی تھی، جن میں تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار ہلاکتیں انڈونیشیا میں ہوئیں۔











