اہم ترین

ڈروئی کلا : اسمارٹ فونز میں ایپ کے بجائے اے آئی کو مرکز بنانے کی نئی کوشش

مصنوعی ذہانت اب صرف موبائل ایپس میں شامل ایک اضافی فیچر نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اسے پورے آپریٹنگ سسٹم کی بنیاد بنانے کی سمت پیش رفت جاری ہے۔ اسی تصور کے تحت شنگھائی کی کمپنی شنگھائی ڈروئی ٹیکنالوجی نے ڈروئی کلا (زہوگ) متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد ایسا اے آئی نیٹیو اور ایجنٹ پر مبنی آپریٹنگ سسٹم تیار کرنا ہے جہاں صارف کو ہر کام کے لیے الگ ایپ کھولنے کی ضرورت کم سے کم ہو۔

روایتی اسمارٹ فون آپریٹنگ سسٹمز میں صارف کسی کام کے لیے متعلقہ ایپ تلاش کرتا، اسے کھولتا اور پھر مختلف مراحل مکمل کرتا ہے۔ اس کے برعکس ڈرونی کلا میں مصنوعی ذہانت کو آپریٹنگ سسٹم کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنانے پر توجہ دی گئی ہے، تاکہ نظام صارف کی ہدایت کو سمجھ کر مطلوبہ کام کے مراحل خود طے کرسکے۔

ایپس سے ایجنٹک او ایس کی جانب سفر

ڈرونی کلا کا بنیادی تصور ایجنٹک او ایس ہے۔ اس نظام میں صارف عام زبان میں اپنی ضرورت بیان کرسکتا ہے اور اے آئی ایجنٹ اس ہدایت کو سمجھ کر ضروری اقدامات کی منصوبہ بندی اور متعلقہ سسٹم فنکشنز یا سروسز کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مثلاً مستقبل میں کسی کام کے لیے متعدد ایپس کھولنے، معلومات ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور مختلف مراحل دستی طور پر مکمل کرنے کے بجائے اے آئی ایجنٹ یہ عمل مربوط انداز میں انجام دے سکے گا۔

تاہم حساس نوعیت کے کاموں کے لیے صارف کی اجازت برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ خودکار کارروائی کے ساتھ صارف کا کنٹرول بھی قائم رہے۔

اے آئی ڈیوائس اور کلاؤڈ دونوں پر

ڈرونی کلا میں ہائبرڈ اے آئی آرکیٹیکچر استعمال کیا گیا ہے، جس میں ڈیوائس پر موجود اے آئی ماڈل اور کلاؤڈ بیسڈ بڑے لینگویج ماڈلز دونوں شامل ہیں۔

عام حالات میں زیادہ پیچیدہ کاموں کے لیے کلاؤڈ ماڈلز استعمال کیے جاتے ہیں، جو ملٹی موڈل ان پٹ، مواد کی تیاری، پیچیدہ معلومات کے تجزیے اور مختلف اے آئی اسکلز کو چلانے جیسی صلاحیتیں فراہم کرتے ہیں۔

اگر انٹرنیٹ دستیاب نہ ہو یا کلاؤڈ سروس کے وسائل ختم ہوجائیں تو نظام بنیادی نوعیت کے سوالات اور جوابات کے لیے آن ڈیوائس اے آئی ماڈل پر منتقل ہوسکتا ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد یہ ہے کہ کلاؤڈ سروس عارضی طور پر دستیاب نہ ہونے کے باوجود اے آئی کی بنیادی سہولیات برقرار رہیں۔

کمپنی کے مطابق صارفین کو مختلف کلاؤڈ اے آئی ماڈلز، بشمول مخصوص اور نجی طور پر تعینات ماڈلز، کے انتخاب کی سہولت بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔

سکیورٹی اور صارف کا کنٹرول

اے آئی ایجنٹس کو زیادہ خودمختاری دینے کے ساتھ سکیورٹی اور شفافیت بھی اہم چیلنج بن جاتی ہے۔ ڈرونی کلا میں حساس کارروائیوں کے لیے اجازت، پرمیشن مینجمنٹ، ٹاسک شیڈولنگ اور ڈیٹا کے تحفظ کے مختلف درجوں پر توجہ دی گئی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین اور متعلقہ افراد کو یہ سمجھنے میں مدد ملنی چاہیے کہ اے آئی ایجنٹ کون سا کام، کس طریقے سے اور کس اجازت کے تحت انجام دے رہا ہے۔ حساس معلومات سے متعلق بعض کاموں میں مقامی پروسیسنگ بھی رازداری کے تحفظ میں معاون ہوسکتی ہے۔

کم قیمت اسمارٹ فونز تک اے آئی کی رسائی

ڈرونی کلا کا ایک اہم دعویٰ اے آئی ٹیکنالوجی کو مہنگے فلیگ شپ فونز تک محدود نہ رکھنا بھی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ آنے والے ابتدائی اسمارٹ فونز میں کول پیڈ اور فلپس کے بعض ماڈلز شامل ہیں، جن کی قیمت تقریباً 1,099 چینی یوآن، یعنی قریباً 160 امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔

یہ پلیٹ فارم صارفین کو اے ٓئی اواتار کو ذاتی نوعیت دینے، نئی اسکلز انسٹال کرنے، اپنی مرضی کی اسکلز اور شیڈولڈ ٹاسکس بنانے اور مختلف اے آئی ماڈلز ترتیب دینے کی سہولت دینے کا بھی ہدف رکھتا ہے۔

ایک دہائی سے زائد آپریٹنگ سسٹم کا تجربہ

شنگھائی ڈروئی ٹیکنالوجی کی بنیاد 2008 میں رکھی گئی تھی۔ کمپنی کے مطابق اس کا سابقہ فری می او اس پلیٹ فارم دنیا بھر میں 20 کروڑ سے زیادہ ڈیوائسز پر استعمال ہوچکا ہے جبکہ یورپ، بھارت، جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکا سمیت مختلف خطوں میں ایک ہزار سے زائد ہارڈویئر اور سافٹ ویئر شراکت داروں کا نیٹ ورک بھی موجود ہے۔

ڈرونی کلا کا تصور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل کے اسمارٹ ٹرمینلز میں صارف کا تجربہ صرف ایپس کے گرد نہیں بلکہ صارف کی ضرورت اور ارادے کے گرد تشکیل پا سکتا ہے۔ یعنی روایتی آپریٹنگ سسٹم جہاں پوچھتا ہے کہ صارف کون سی ایپ استعمال کرنا چاہتا ہے، وہاں اے آئی نیٹیو او ایس کا بنیادی سوال یہ ہوگا کہ صارف کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان