اہم ترین

بنگلادیش نے تاریخ رقم کردی: آسٹریلیا کو ہوم گراؤنڈ میں بدترین شکست

بنگلا دیش نے کرکٹ کی دنیا کو بڑا اپ سیٹ دیتے ہوئے آسٹریلیا کو ڈارون ٹیسٹ میں نو وکٹوں سے شکست دے کر آسٹریلوی سرزمین پر اپنی پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کرلی۔ یہ بنگلہ دیش کی آسٹریلیا میں صرف تیسری ٹیسٹ کوشش تھی، جبکہ دونوں ٹیمیں 23 سال بعد آسٹریلوی سرزمین پر ٹیسٹ میں آمنے سامنے آئیں۔

آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں کیمرون گرین کی شاندار 104 رنز کی سنچری کی بدولت 284 رنز بنائے، تاہم بنگلہ دیش کے اسپنر مہدی حسن مرزا نے 66 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کرتے ہوئے میزبان ٹیم کی مزاحمت ختم کردی۔ محمود حسن نے بھی تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

بنگلا دیش کو فتح کے لیے صرف 57 رنز کا ہدف ملا، جو اس نے ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ مومن الحق 30 اور شادمان اسلام 25 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔ مومن الحق نے مقامی وقت کے مطابق دو بج کر 36 منٹ پر فاتحانہ رنز بنا کر بنگلہ دیش کو تاریخی کامیابی دلائی۔

اس سے قبل آسٹریلیا کی دوسری اننگز میں کیمرون گرین نے تقریباً پانچ گھنٹے کریز پر قیام کرتے ہوئے 201 گیندوں پر 104 رنز بنائے۔ انہوں نے صرف چار چوکے لگائے، تاہم دیگر بلے باز ان کا بھرپور ساتھ نہ دے سکے۔ اسٹیون اسمتھ نے 44 رنز بنائے۔

مہدی حسن نے نیتھن لائن کو ایل بی ڈبلیو کرکے آسٹریلیا کی اننگز کا خاتمہ کیا۔ یہ مہدی حسن کی بیرون ملک ٹیسٹ میں تیسری جبکہ مجموعی طور پر 15ویں پانچ وکٹوں کی کارکردگی تھی۔

بنگلا دیش کی پہلی اننگز 426 رنز پر ختم ہوئی تھی۔ تنزید حسن نے 101 رنز کی سنچری بنائی، کپتان نجم الحسن شانتو نے 84 اور مہدی حسن نے 65 رنز اسکور کیے۔ آسٹریلیا کی جانب سے جوش ہیزل ووڈ نے چھ وکٹیں حاصل کیں۔

آسٹریلیا اپنی پہلی اننگز میں صرف 198 رنز بنا سکا تھا۔ اسٹیون اسمتھ 71 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ بنگلہ دیش کے محمود حسن نے چھ اور عبادت حسین نے دو وکٹیں حاصل کیں۔

بنگلا دیش کی کامیابی کو اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ ٹیم نے ٹیسٹ سے صرف ایک ہفتہ قبل کرکٹ آسٹریلیا الیون کے خلاف وارم اپ میچ میں محض 54 رنز پر آل آؤٹ ہونے کے بعد شاندار واپسی کی۔ ٹیم کو فاسٹ بولر نہید رانا کی خدمات بھی حاصل نہیں تھیں، لیکن اس کے باوجود بنگلا دیش نے دونوں اننگز میں آسٹریلیا کو 300 سے کم رنز پر آؤٹ کیا۔

اس تاریخی کامیابی میں حسن محمود کی میچ میں نو وکٹیں، تنزید حسن کی پہلی ٹیسٹ سنچری، مہدی حسن کی آل راؤنڈ کارکردگی اور نجم الحسن شانتو کی کپتانی نمایاں رہی۔ بنگلہ دیش نے اس فتح کے ساتھ ثابت کردیا کہ وہ بڑے حریفوں کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی وقت حیران کن کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان