انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے قبل پاکستان کے مڈل آرڈر بلے باز سعود شکیل نے شاندار سنچری اسکور کرکے فارم میں واپسی کے اشارے دے دیے۔ وہ فٹنس مسائل کے باعث کچھ عرصہ ٹیسٹ اسکواڈ سے باہر رہنے کے بعد ٹیم میں واپس آئے ہیں اور انگلینڈ میں اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
بیکنہم میں پروفیشنل کاؤنٹی کلب سلیکٹ الیون کے خلاف تین روزہ وارم اپ میچ میں پاکستان نے 67 رنز کے خسارے سے واپسی کرتے ہوئے 262 رنز کا ہدف سات وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ پاکستان نے ہدف کا تعاقب 4.61 کے رن ریٹ سے مکمل کیا۔
اس کامیابی میں سعود شکیل کی ناقابل شکست سنچری نے اہم کردار ادا کیا۔ تجربہ کار بلے باز کی یہ اننگز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے مڈل آرڈر کو فارم کے مسائل کا سامنا ہے۔
سعود شکیل نے گزشتہ دس ٹیسٹ اننگز میں صرف 189 رنز بنائے ہیں اور ان کی اوسط 19 سے بھی کم رہی ہے۔ وہ فٹنس مسائل کے باعث ویسٹ انڈیز کے خلاف دونوں ٹیسٹ میچز بھی نہیں کھیل سکے تھے۔
23 ٹیسٹ میچز میں تقریباً 44 کی اوسط رکھنے والے سعود شکیل کے لیے انگلینڈ کا دورہ ایک نیا امتحان ہوگا۔ وہ اب تک انگلینڈ میں کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیل سکے، تاہم 2023 میں یارکشائر کی جانب سے تین میچز ضرور کھیلے تھے، جہاں پانچ اننگز میں صرف 71 رنز بنا سکے۔
سعود شکیل کی کارکردگی میں ہوم اور بیرونِ ملک ٹیسٹ میچز کے درمیان نمایاں فرق بھی رہا ہے۔ پاکستان میں ان کی اوسط 50 سے زیادہ ہے، جبکہ بیرونِ ملک یہ 33.56 اور ایشیا سے باہر صرف تقریباً 21 رہ جاتی ہے۔
انگلینڈ کی کنڈیشنز کے حوالے سے سعود شکیل کا کہنا ہے کہ اس موسم گرما میں گرم موسم کے باعث پچز معمول سے زیادہ خشک ہوسکتی ہیں، جس سے اسپنرز کو مدد ملنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق ہیڈنگلے کی پچ پر باؤنس بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔
سعود شکیل نے کہا کہ پاکستان انگلینڈ کے جارحانہ انداز یا ’باز بال‘ کو دیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی تبدیل نہیں کرے گا بلکہ کنڈیشنز اور میچ کی ضرورت کے مطابق کرکٹ کھیلے گا۔
پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے قبل متعدد اہم کھلاڑیوں کی فٹنس کے حوالے سے بھی خدشات ہیں۔ عبداللہ فضل کمر کی انجری کے باعث پوری سیریز سے باہر ہوچکے ہیں، جبکہ شان مسعود اور بابر اعظم کے پہلے ٹیسٹ میں شرکت کے بارے میں ہاتھ کی انجری کے باعث صورتحال واضح نہیں۔











