سب ہی پریشان ہیں: پاکستان کی مسلسل ناقص کارکردگی پر عباس بھی فکرمند

انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں 194 رنز کی شکست اور سیریز گنوانے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی پر فاسٹ بولر محمد عباس نے بھی تشویش کا اظہار کردیا ہے۔ لارڈز میں پاکستان کی جانب سے شاندار کارکردگی دکھانے والے محمد عباس کا کہنا ہے کہ ٹیم کی موجودہ صورتحال پر صرف شائقین ہی نہیں بلکہ سلیکشن کمیٹی اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی سمیت سب ہی پریشان ہیں۔

محمد عباس لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کے لیے سب سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی رہے۔ انہوں نے میچ میں مجموعی طور پر 9 وکٹیں حاصل کیں جبکہ دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں لے کر لارڈز کے تاریخی آنر بورڈ پر بھی اپنا نام درج کرایا۔ لارڈز میں عباس کا ریکارڈ پہلے ہی غیر معمولی ہے اور اس میچ کے بعد چار اننگز میں ان کی وکٹوں کی تعداد 17 ہوگئی ہے۔تاہم ایک بار پھر ان کی انفرادی کارکردگی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔

محمد عباس نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی مجموعی کارکردگی واقعی تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق ٹیم میں یہ بات تسلیم کی جاچکی ہے کہ اس وقت پاکستان نہ بیٹنگ میں اچھا کررہا ہے، نہ بولنگ میں اور نہ ہی فیلڈنگ میں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میٹنگز میں ان مسائل پر مسلسل بات ہوتی ہے اور تمام کھلاڑی بہتری کے لیے کوشش کررہے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔

محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست کی بڑی وجوہات میں ناقص فیلڈنگ کو بھی قرار دیا۔

ان کے مطابق پاکستان نے پہلی اننگز میں کئی اہم مواقع ضائع کیے اور انگلینڈ کے بیٹرز کو کیچز ڈراپ کرکے اضافی رنز بنانے کا موقع دیا۔ عباس کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے اہم کھلاڑیوں نے تقریباً 70 اضافی رنز بنائے اور یہی وہ مرحلہ تھا جہاں میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا۔

پاکستان کے لیے صورتحال اس وقت خاص طور پر مایوس کن تھی جب انگلینڈ 222 رنز پر 8 وکٹیں گنوا چکا تھا۔ پاکستانی بولرز کے پاس انگلش اننگز کو جلد سمیٹنے کا بہترین موقع موجود تھا، لیکن نچلے نمبروں کے بیٹرز نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف مزاحمت کی۔

انگلینڈ نے آخری دو وکٹوں پر مزید 68 رنز جوڑے اور پہلی اننگز میں 180 رنز کی اہم برتری حاصل کرلی۔

عباس کے مطابق اگر پاکستان وہ مواقع نہ گنواتا اور انگلینڈ کو تقریباً 200 رنز کے اندر آؤٹ کردیا جاتا تو میچ کی صورتحال بالکل مختلف ہوسکتی تھی۔

محمد عباس کے لیے موجودہ دور ذاتی طور پر شاندار فارم کا دور ہے، لیکن ٹیم کی مسلسل ناکامی ان کی انفرادی کامیابیوں کی خوشی بھی ماند کررہی ہے۔

گزشتہ چھ ٹیسٹ میچز میں عباس 28 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور اس دوران ان کی بولنگ اوسط 19 سے بھی کم رہی ہے۔ لارڈز میں پانچ وکٹوں کی کارکردگی نے انہیں ایک مرتبہ پھر پاکستان کے سب سے قابلِ اعتماد ٹیسٹ بولرز میں شامل کردیا ہے۔

اس کے باوجود عباس اس بات پر خوش نہیں کہ وہ ذاتی طور پر اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انفرادی کارکردگی اس وقت اہمیت رکھتی ہے جب اس سے ٹیم کو فتح حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ کئی میچز میں وہ اپنی طرف سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرچکے ہیں لیکن ٹیم کامیاب نہیں ہوسکی، اس لیے وہ انفرادی کارکردگی کو ٹیم کی فتح کا متبادل نہیں سمجھتے۔

اپنے کیریئر کے مختلف ادوار کا ذکر کرتے ہوئے عباس نے کہا کہ انتخاب ان کے ہاتھ میں نہیں تھا، البتہ جو چیز ان کے اختیار میں تھی انہوں نے وہ کرنے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق انہوں نے پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی، کاؤنٹی کرکٹ میں بھی اپنی صلاحیتیں منوائیں اور مسلسل محنت کرتے رہے۔ اس وقت ٹیم مینجمنٹ نے جو فیصلے کیے وہ ان کے اختیار میں نہیں تھے۔

عباس کا کہنا تھا کہ کسی کھلاڑی کا منتخب ہونا یا نہ ہونا اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا، اس لیے وہ ان معاملات کے بجائے اپنی کارکردگی پر توجہ دیتے ہیں۔

رفتار سے زیادہ مہارت اہم قرار

پاکستانی بولنگ اٹیک میں رفتار کی کمی بھی اس سیریز کے دوران خاصی زیر بحث رہی ہے۔ محمد عباس پاکستان کے تینوں فاسٹ بولرز میں سب سے کم رفتار رکھتے ہیں، تاہم ان کی کامیابی کا راز لائن، لینتھ، سوئنگ اور درست جگہ پر گیند پھینکنے کی صلاحیت ہے۔

عباس نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ کامیاب ہونے کے لیے ہر بولر کا 140 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے گیند کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر بولر کی اپنی مہارت ہوتی ہے اور انہوں نے خود کبھی 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ نہیں کی۔ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق بولنگ کرتے ہیں اور اسی میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے بیٹنگ اور بولنگ کے درمیان دلچسپ مماثلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح بیٹنگ میں شراکت داری ضروری ہوتی ہے، اسی طرح بولنگ میں بھی بولرز کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔

عباس کے مطابق لیڈز ٹیسٹ میں پاکستانی بولرز نے بطور یونٹ اس انداز میں بولنگ نہیں کی، تاہم لارڈز میں صورتحال بہتر تھی اور بولنگ اٹیک نے انگلینڈ کے حالات کو سمجھنے کے بعد بہتر کارکردگی دکھائی۔

تجربے کی کمی بھی بڑا مسئلہ

پاکستانی ٹیم کی موجودہ مشکلات کی ایک وجہ عباس نے کھلاڑیوں کا کم تجربہ بھی قرار دیا۔

ان کے مطابق مختلف دوروں میں پاکستان کا بولنگ کمبی نیشن تبدیل ہوتا رہا ہے۔ بنگلا دیش میں ٹیم کے ساتھ مختلف بولرز تھے، ویسٹ انڈیز میں پاکستان نے ایک ٹیسٹ میچ جیتا جبکہ انگلینڈ میں موجود بولنگ اٹیک میں کئی کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کے اعتبار سے ابھی نئے ہیں۔

عباس نے بتایا کہ انہوں نے خود 32 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں، لیکن ان کے ساتھ کھیلنے والے بعض فاسٹ بولرز ابھی ٹیسٹ کرکٹ میں اپنا ابتدائی تجربہ حاصل کررہے ہیں۔

ان کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ میں تجربہ انتہائی اہم ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کو وقت کے ساتھ حالات کو سمجھنے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع دینا پڑتا ہے۔

پاکستان کی 20 ٹیسٹ میں 15ویں شکست

لارڈز ٹیسٹ کی شکست نے پاکستان کے ناقص ریکارڈ کو مزید خراب کردیا ہے۔ یہ گزشتہ 20 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی 15ویں شکست ہے۔بیرون ملک پاکستان کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔ گزشتہ 11 اوے ٹیسٹ میچز میں قومی ٹیم کو 10 شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بھی پاکستان آخری نمبر پر موجود ہے اور موجودہ صورتحال میں ٹیم کے لیے فوری طور پر حالات بدلنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔