پاکستان کے سابق فاسٹ بولر اور کپتان وسیم اکرم نے سابق وزیراعظم اور سابق کپتان عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے سابق مینٹور اور دوست کو بہت یاد کرتے ہیں۔
دی ایتھلیٹک کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے عمران خان سے گزشتہ تین برس سے بات نہیں کی، جو ان کے لیے انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ سیاسی طور پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اپنی جگہ، عدالت کا فیصلہ اپنی جگہ، لیکن ان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔
وسیم اکرم نے کہا کہ وہ عمران خان کو صرف ایک سیاسی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ اپنے دوست اور مینٹور کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے بقول، ’’میں انہیں بہت یاد کرتا ہوں، ان سے بات کرنا یاد آتا ہے اور بحیثیت دوست انہیں مجموعی طور پر یاد کرتا ہوں۔‘‘
سابق فاسٹ بولر نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کا بھی حوالہ دیا۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کرکٹ کی دنیا سے متعدد سابق اور موجودہ کھلاڑی عمران خان کے لیے بہتر طبی سہولیات اور بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
22 سابق کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے نام ایک کھلا خط بھی لکھا تھا، جس میں عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹر اور اہل خانہ تک رسائی دینے سمیت ان کے بنیادی حقوق اور وقار کا خیال رکھنے پر زور دیا گیا تھا۔ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے بھی ان مطالبات کی حمایت کی، جبکہ ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ برائن لارا نے عمران خان کو کھیل کا لیجنڈ قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ بنیادی انسانی سلوک کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان میں بھی کرکٹ حلقوں کی آواز بلند
عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار صرف بیرونِ ملک سے نہیں ہوا بلکہ پاکستان کے معروف سابق کرکٹرز بھی اس معاملے پر آواز اٹھا چکے ہیں۔
سابق کپتان جاوید میانداد نے جذباتی انداز میں عمران خان کی رہائی اور حکومت و سابق وزیراعظم کے درمیان اختلافات کو حل کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے بعد معین خان اور رمیز راجا نے بھی عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
وسیم اکرم نے برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی اسپورٹس پر عمران خان کے بیٹوں سلیمان اور قاسم خان کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا، جس میں دونوں نے جیل میں اپنے والد کی زندگی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
ان کے مطابق اس انٹرویو کے بعد پاکستان میں خاصا ردعمل سامنے آیا اور حکومت کی جانب سے عمران خان سے ملاقاتوں اور فون کالز کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے، تاہم وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کس بات پر یقین کیا جائے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، صحت محفوظ رہنی چاہیے
وسیم اکرم نے واضح کیا کہ ان کی تشویش سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک دوست کی حیثیت سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان سزا یافتہ ہوں یا نہ ہوں، جیل میں ہوں یا باہر، ان کی صحت کا تحفظ ضروری ہے۔ وسیم اکرم کے مطابق حکومت کہہ رہی ہے کہ عمران خان کی صحت ٹھیک ہے، لیکن وہ ذاتی طور پر ان کی صحت کے بارے میں فکرمند ہیں۔
سابق کرکٹر نے کہا کہ انگلینڈ اور دیگر ممالک میں عمران خان کے حالات بہتر بنانے کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں، تاہم پاکستان میں اس حوالے سے صورتحال انہیں اتنی واضح دکھائی نہیں دیتی۔
عمران خان اور وسیم اکرم کا پرانا تعلق
عمران خان اور وسیم اکرم کا تعلق پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کے اہم ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ وسیم اکرم نے اپنے کیریئر کے ابتدائی برسوں میں عمران خان کو اپنا مینٹور قرار دیا اور کئی مواقع پر اعتراف کیا کہ عمران خان نے ان کے کھیل کو نکھارنے اور کیریئر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
عمران خان بھی وسیم اکرم کو پاکستان کے سب سے قدرتی صلاحیت رکھنے والے کرکٹرز میں شمار کرتے رہے ہیں۔
وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دونوں کے درمیان طویل عرصے تک رابطہ رہا اور وہ عمران خان سے ملنے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے جاتے رہے۔


