نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب اور گلیشیئر و پہاڑی تودے گرنے کے واقعے کے تقریباً دو ہفتے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1357 ہوگئی ہے، جبکہ 5326 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق امدادی کارکن مسلسل 14ویں روز بھی متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی تعداد میں اضافہ نئے کیسز سامنے آنے اور مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کی تصدیق کے باعث ہوا ہے۔
ڈیزاسٹر اتھارٹی کے اسسٹنٹ ترجمان پرکاش پوکھریل نے بتایا کہ حکام ملک بھر سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کو یکجا کرکے ان کی تصدیق کر رہے ہیں تاکہ لاپتا افراد کی تعداد حقیقت کے زیادہ قریب لائی جا سکے۔
چین اور نیپال کی سرحد کے قریب گلیشیئر اور پہاڑی تودے گرنے کے نتیجے میں سیلابی ریلوں نے سڑکیں، پل اور متعدد مکانات بہا دیے تھے۔ تباہی کے بعد سیکڑوں افراد لاپتا ہوئے، جن میں پن بجلی منصوبوں پر کام کرنے والے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔
سرنگوں میں زندہ افراد کی تلاش جاری
نیپالی امدادی ٹیموں نے تین پن بجلی منصوبوں پر سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے، جہاں خدشہ ہے کہ کارکن اب بھی زیرِ زمین سرنگوں میں پھنسے ہوسکتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں گہری سرنگوں سے تین افراد کو زندہ نکالے جانے کے بعد امدادی کارکنوں کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ جمعے کو دو نیپالی کارکنوں جبکہ ہفتے کو ایک چینی شہری کو سرنگ سے زندہ نکالا گیا تھا۔
نیپال کی ڈیزاسٹر اتھارٹی کے سربراہ دھرم راج اپریتی کے مطابق تین منصوبوں میں اب بھی زندہ افراد کی موجودگی کا امکان ہے اور انہیں تلاش کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
چین، بھارت اور جنوبی کوریا سمیت مختلف ممالک کے غیر ملکی ماہرین بھی نیپالی امدادی ٹیموں کی معاونت کر رہے ہیں۔ نیپالی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ سرنگوں میں موجود لاپتا افراد کے بارے میں معلومات کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی اور زندہ افراد ملنے کی امید برقرار ہے۔
سیکڑوں لاشوں کی اجتماعی قبروں میں دفن
شدید تباہی کے باعث نیپال کے مردہ خانوں میں گنجائش ختم ہونے لگی ہے۔ پولیس کے مطابق شناخت کے لیے لاشوں سے ڈی این اے نمونے حاصل کرنے کے بعد سیکڑوں لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا جا چکا ہے۔
ادھر چین میں بھی 43 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 519 افراد لاپتا ہیں۔ دونوں ممالک کے اعداد و شمار کو ملا کر مجموعی ہلاکتیں 1400 اور لاپتا افراد کی تعداد 5845 تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق گلیشیئر کے انہدام کی حتمی وجہ ابھی واضح نہیں، تاہم عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے ایسے قدرتی حادثات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
نیپال کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی پر اربوں ڈالر خرچ ہوسکتے ہیں۔ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کی عالمی تنظیم کے مطابق سیلاب سے منقطع ہونے والی آبادیوں تک امداد پہنچانا بھی انتہائی مشکل ہے کیونکہ کئی علاقوں تک رسائی کے راستے تنگ اور خطرناک ہیں۔


