خبردار! یادداشت کھونے کے اثرات بڑھاپے سے پہلے ہی شروع ہوجاتے ہیں: تحقیق

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یادداشت میں کمی کے آثار بڑھاپے میں نمایاں ہونے سے کہیں پہلے شروع ہوسکتے ہیں، جبکہ درمیانی عمر یادداشت کی کارکردگی میں اہم تبدیلی کا مرحلہ ثابت ہوسکتی ہے۔

جرنل سیریبرال کورٹیکس میں شائع ہونے والی تحقیق میں 18 سے 74 سال کی عمر کے 60 افراد کو شامل کیا گیا۔ شرکا کو مختلف اشیا اور مناظر کی تصاویر مخصوص چہروں کے ساتھ دکھائی گئیں، جس کے بعد مختصر وقفے کے بعد ان کی یادداشت جانچی گئی۔ اس دوران ایم آر آئی کے ذریعے دماغ کے اس حصے کا جائزہ بھی لیا گیا جو یادداشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

محققین نے خاص طور پر ہپوکیمپس پر توجہ مرکوز کی، جو مختلف معلومات کو آپس میں جوڑ کر یادداشت تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق نوجوان بالغ افراد کے مقابلے میں 50 سے 63 سال کی عمر کے افراد میں یادداشت کی درستگی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درمیانی عمر یادداشت میں تبدیلی کا ایک اہم مرحلہ ہوسکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ نوجوان افراد جب غلط یادداشت کا شکار ہوئے تو ان کے دماغ میں اصل یادداشت سے متعلق سرگرمی کم دیکھی گئی، جبکہ عمر رسیدہ افراد میں غلط جواب کے وقت بھی ہپوکیمپس اور متعلقہ یادداشت کے نمونوں کی سرگرمی زیادہ تھی۔

ماہرین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ دماغ محض کم فعال نہیں ہوتا بلکہ یادداشت سے متعلق معلومات کو مختلف انداز میں جوڑنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات تفصیلات آپس میں گڈمڈ ہوجاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یادداشت سے متعلق اعصابی تبدیلیاں بظاہر واضح علامات سامنے آنے سے کئی برس پہلے شروع ہوسکتی ہیں۔ تاہم تحقیق کو ابھی اس مرحلے پر طبی تشخیص کا حتمی ذریعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

محققین کے مطابق مستقبل میں ایم آر آئی اور دماغی سرگرمی کے تجزیے پر مبنی طریقے یادداشت میں کمی کے ابتدائی آثار جانچنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے ممکنہ علاج زیادہ ابتدائی مرحلے میں شروع کرنے کے راستے کھل سکتے ہیں۔

یادداشت اور دماغی صحت کے لیے کیا کریں؟

ماہرین کے مطابق یادداشت کی کمزوری یا ڈیمینشیا سے بچاؤ کی کوئی سو فیصد ضمانت موجود نہیں، تاہم دماغی صحت بہتر رکھنے کے لیے باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی اور ورزش، دماغ کو متحرک رکھنے کے لیے مطالعہ، نئی چیزیں سیکھنے اور ذہنی مشاغل کو معمول بنانے اور متوازن غذا کے ساتھ بھرپور نیند لینا ضروری ہے۔

ماہرین نے یہ بھی زور دیا کہ کبھی کبھار کسی کا نام بھول جانا یا کوئی چیز رکھ کر بھول جانا عام بات ہے، لیکن اگر یادداشت میں مسلسل اور نمایاں کمی آنے لگے، اہم گفتگو بار بار بھولی جائے، مانوس جگہوں پر راستہ بھٹکنے لگیں یا روزمرہ کے مالی اور طبی معاملات سنبھالنے میں دشواری ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔