امریکا ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے قطر متحرک، چین سے بھی رابطے

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے قطر نے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔ دوحہ نے اس مقصد کے لیے چین سمیت مختلف علاقائی اور عالمی شراکت داروں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کا کہنا ہے کہ قطر موجودہ صورتحال کو صرف وقتی طور پر قابو میں رکھنے کے بجائے ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے جن میں امریکا اور ایران کے درمیان بامعنی مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔

دوحہ نیوز سے گفتگو میں ماجد الانصاری نے کہا کہ قطر کی کوشش ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مزید کشیدگی کا راستہ روکا جائے اور سفارتی حل کے لیے ضروری ماحول تیار کیا جائے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور چین سمیت اہم شراکت داروں سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔

قطری ترجمان نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کو کم کرنا قطر کی سفارتی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار استحکام صرف مذاکرات اور سیاسی رابطوں کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

قطر کا مؤقف ہے کہ خطے میں مزید عسکری تصادم کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ماجد الانصاری کے حالیہ بیانات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ دوحہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست بات چیت کی بحالی کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی بحری سلامتی اور وسیع تر علاقائی بحران کے لیے ایک جامع سفارتی فریم ورک کی تشکیل پر زور دے رہا ہے۔