نورا فتیحی کو ایئرلائن کا مذاق اڑانا مہنگا پڑگیا: بات عدالت تک جاپہنچی

بالی ووڈ اداکارہ اور ماڈل نورا فتحی کے لیے ایک سوشل میڈیا پوسٹ قانونی مشکل بن گئی۔ ایک ایوی ایشن کمپنی نے اداکارہ کے خلاف 3 کروڑ بھارتی روپے ہرجانے اور ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کردیا ہے، جس کی سماعت گاندھی نگر کی عدالت میں 25 ستمبر کو ہوگی۔

مقدمے کا تعلق گزشتہ سال دسمبر میں نورا فتحی کے ممبئی سے جے پور سفر سے ہے۔ اداکارہ نے چارٹرڈ پرواز کے دوران طیارے کے اندر ویڈیوز بنائیں اور بعد میں انہیں انسٹاگرام پر شیئر کیا۔

کمپنی کا مؤقف ہے کہ نورا فتحی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں طیارے کو مبینہ طور پر ’’چھوٹا کھلونا‘‘ اور ’’لیگو ایئرپلین‘‘ قرار دیا، جس سے کمپنی کی ساکھ متاثر ہوئی۔

درخواست گزار کے مطابق نورا فتحی کے انسٹاگرام پر کروڑوں فالوورز ہیں، اس لیے ان کے تبصرے بڑے پیمانے پر پھیلے اور کمپنی کے کاروبار پر بھی اثر پڑا۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران پروازوں کی بکنگ میں 15 سے 20 فیصد کمی ہوئی جبکہ منسوخیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ایوی ایشن کمپنی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ طیارہ مسافروں کے سفر کے لیے مکمل طور پر موزوں تھا اور سول ایوی ایشن حکام سے تصدیق شدہ ہونے کے ساتھ مقررہ حفاظتی ضوابط کے مطابق آپریٹ کیا جا رہا تھا۔

کمپنی نے عدالت سے 3 کروڑ روپے ہرجانے کے علاوہ نورا فتحی کو طیارے سے متعلق مبینہ توہین آمیز ویڈیوز اور دیگر مواد سوشل میڈیا سے ہٹانے کا حکم دینے کی استدعا بھی کی ہے۔

درخواست میں اداکارہ سے عوامی وضاحت جاری کروانے کی درخواست بھی شامل ہے۔ عدالت اس معاملے کی ابتدائی سماعت 25 ستمبر کو کرے گی