بابر اعظم کا لارڈز ٹیسٹ کے بعد ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ سے لاعلمی کا انکشاف

پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے انکشاف کیا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں سے وہ خود بھی لاعلم تھے اور انہیں پی سی بی کے فیصلے کا علم باضابطہ اعلان کے بعد ہوا۔

ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ سات کھلاڑیوں کو اسکواڈ سے نکالنے اور نئے کھلاڑیوں کو شامل کرنے کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کیا، اس لیے اس کی وجوہات بھی بورڈ ہی بہتر طور پر بتا سکتا ہے۔

بابر کے مطابق انہیں ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی خبر پہلے سے نہیں تھی۔ پی سی بی نے یہ فیصلہ کسی سوچ بچار کے بعد ہی کیا ہوگا، لہٰذا اس بارے میں سوال بھی بورڈ سے کیا جانا چاہیے۔

لارڈز میں 194 رنز کی شکست کے اگلے ہی روز پی سی بی نے سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے اور ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کی جگہ سات نئے کھلاڑی اسکواڈ میں شامل کیے گئے، جن میں پانچ نے ابھی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی۔

بابر نے ٹیم میں اچانک تبدیلیوں پر حیرت کا اظہار تو کیا، تاہم اس تاثر کو مسترد کیا کہ اس صورتحال نے ان کے لیے پورا ہفتہ مشکل بنا دیا۔ پی سی بی کی جانب سے کھلاڑیوں کے نظم و ضبط اور طرزِ عمل سے متعلق تحقیقات کے اعلان پر بھی بابر نے لاعلمی ظاہر کی۔

سیریز ہار گئے، اب کھونے کو کچھ نہیں

پاکستانی کپتان نے تیسرے ٹیسٹ کے حوالے سے کہا کہ سیریز ہاتھ سے نکل چکی ہے لیکن اب ٹیم کے پاس کھونے کو کچھ نہیں۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں کو آزادانہ انداز میں کھیلنا اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا ہوگا۔

بابر نے بتایا کہ نئے کھلاڑیوں نے ٹیم کے ساتھ چند روز پریکٹس کی ہے اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ان کے بقول نوجوان کھلاڑیوں میں جوش نمایاں ہے اور امید ہے یہی جذبہ میدان میں بھی دکھائی دے گا۔

لارڈز ٹیسٹ کے بعد پاکستان کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر عاقب جاوید نے سیریز کے لیے ٹیم کے انتخاب پر سخت تنقید کی تھی، تاہم بابر نے ابتدائی دونوں ٹیسٹوں میں کیے گئے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے اس وقت پچ اور حالات کو دیکھتے ہوئے جو بہتر سمجھا، وہی فیصلہ کیا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ٹیم تینوں شعبوں میں توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی، جس کے باعث تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

سینئر کھلاڑیوں پر بڑی ذمہ داری

ایجبسٹن ٹیسٹ کے لیے پاکستان کی حتمی پلیئنگ الیون کے بارے میں اب بھی صورتحال واضح نہیں، تاہم بابر نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کے ساتھ سینئرز پر ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔

خود بابر بھی لارڈز ٹیسٹ میں صرف 8 اور 6 رنز بنا سکے تھے اور وہ انجری کے باعث ہیڈنگلے میں پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسکواڈ میں شامل کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو ایجبسٹن میں ٹیسٹ کھیلنے کا سابقہ تجربہ نہیں۔

بابر کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں کارکردگی دکھانا ہی سینئر کھلاڑیوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ٹیم پر زور دیا کہ ماضی کی ناکامیوں کو بھلا کر مستقبل پر توجہ مرکوز کی جائے۔