برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے تیار شدہ اشیا کی درآمد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد اور غیر قانونی آبادکاری کا سدباب کرنا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو تحفظ دینا ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب میں ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں قائم غیر قانونی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ایسی کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی ہوگی جو بستیوں کی توسیع کے لیے تعمیرات، انفرااسٹرکچر، مالی معاونت یا رئیل اسٹیٹ کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ غیر قانونی بستیوں کی توسیع میں سرمایہ کاری یا معاونت کرنے والوں کو برطانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی ضروری ہے۔
دیگر 11 ممالک بھی پابندیوں کے حق میں
برطانیہ کے اعلان کے ساتھ ہی کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن نے بھی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں محدود کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
یورپی یونین نے بھی انتہائی دائیں بازو کے آبادکاروں اور ان سے منسلک اداروں کے خلاف پہلے ہی تین مرحلوں میں پابندیاں عائد کیے جانے کا اعلان کیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی نے برطانیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے آبادکاری کے نظام کو جواب دہ بنانے کی جانب اہم عملی قدم قرار دیا ہے۔
اسرائیل کا سخت ردعمل
اسرائیل نے برطانوی فیصلے پر شدید ردعمل دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر نے خبردار کیا کہ اگر برطانیہ نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی تو اسرائیل بھی برطانیہ کے خلاف اقدامات کرے گا۔
بعد ازاں اسرائیلی وزیر خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانے کی بندش کا حکم بھی دے دیا۔ ساعر نے برطانوی وزیر خارجہ کی جانب سے اسرائیلی آبادکاروں پر نسلی صفائی کے الزامات کو سخت الفاظ میں مسترد کردیا۔
اسرائیلی سخت گیر وزیر اتمار بن گویر نے بھی برطانیہ کے خلاف مزید اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ فاک لینڈ جزائر کو ارجنٹائن کا مقبوضہ علاقہ تسلیم کریں۔
دو ریاستی حل پر برطانیہ کا زور
برطانیہ کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں مسلسل آبادکاری دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ لندن کے مطابق فلسطینی اور اسرائیلی ریاستوں کے قیام پر مبنی حل ہی خطے میں دیرپا امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
برطانیہ نے گزشتہ سال فلسطینی ریاست کو بھی تسلیم کیا تھا اور اب اسرائیلی بستیوں کے خلاف تجارتی پابندیوں کو اسی وسیع تر سفارتی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔


