پاکستان کی آخری آزمائش ایجبسٹن ٹیسٹ: انگلینڈ کے خلاف عزت بچانے کا مشن

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں دو بڑی شکستوں کے بعد پاکستان کی ٹیم بدھ سے ایجبسٹن میں شروع ہونے والے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں کامیابی کے ذریعے دورۂ انگلینڈ کا کچھ ازالہ کرنے کی کوشش کرے گی۔

تین میچوں کی سیریز انگلینڈ پہلے ہی اپنے نام کر چکا ہے، تاہم پاکستان کے لیے آخری میچ محض رسمی کارروائی نہیں۔ ٹیم ایک ایسی سیریز کا اختتام کم از کم ایک کامیابی کے ساتھ کرنا چاہتی ہے جس میں اسے مسلسل مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

ہیڈنگلے میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں اننگز سے شکست کے بعد لارڈز ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو 194 رنز سے شکست ہوئی۔ تاہم دوسرے ٹیسٹ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم میں غیر معمولی پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا اور اتنے ہی نئے کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کر لیا، جن میں پانچ ٹیسٹ ڈیبیو کے امیدوار ہیں۔
کوچنگ اسٹاف بھی تبدیل

پی سی بی نے ٹیسٹ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا۔ ان کی جگہ وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کو تیسرے ٹیسٹ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سلمان علی آغا، جو بابر اعظم کی انجری کے دوران ہیڈنگلے میں کپتانی کر چکے تھے، اور لارڈز ٹیسٹ میں پانچ وکٹیں لینے والے اسپنر علی عثمان بھی وطن واپس بھیجے جانے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔

تجربہ کار وکٹ کیپر محمد رضوان اور اوپنر امام الحق بھی اسکواڈ سے باہر کر دیے گئے۔ امام الحق لارڈز ٹیسٹ میں پنڈلی کی انجری کے باعث دونوں اننگز میں بیٹنگ نہیں کر سکے تھے۔

مائیک ہیسن نے ٹیم میں اچانک ہونے والی بڑی تبدیلیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی کھلاڑی شاید افراتفری کے عادی ہیں، لیکن وہ خود سیریز کے دوران اس نوعیت کی صورتحال دیکھنے کے عادی نہیں۔

ہیسن کے مطابق ان کی کوشش ایک متوازن اسکواڈ تیار کرنے کی ہے تاکہ بولنگ اٹیک میں مختلف انداز شامل کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی رفتار، منفرد ایکشن اور پراسرار اسپن کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن اس دورے میں ٹیم ان خصوصیات کو مؤثر انداز میں پیش نہیں کر سکی۔
پاکستان کی بیٹنگ سب سے بڑا مسئلہ

پاکستان کی سب سے بڑی تشویش بیٹنگ بنی ہوئی ہے۔ ٹیم سیریز کی چاروں اننگز میں 200 رنز کا ہندسہ بھی عبور نہیں کر سکی۔

دوسری جانب انگلینڈ کے نئے پیس اٹیک نے پاکستانی بیٹرز کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہے۔ اولی رابنسن، جوفرا آرچر، جوش ٹنگ اور گس ایٹکنسن پر مشتمل فاسٹ بولنگ یونٹ نے دونوں ٹیسٹ میچوں میں نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔

انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے لارڈز ٹیسٹ کے بعد کہا تھا کہ تیز گیند بازوں کے لیے سازگار پچز، ابر آلود موسم اور گیند کے زیادہ مؤثر ہونے نے بیٹرز کے لیے مشکل حالات پیدا کر دیے ہیں۔

پاکستان کے نئے کھلاڑیوں کے لیے مسئلہ یہ بھی ہے کہ دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ کے درمیان کوئی ٹور میچ نہیں ہوا، جس کے باعث انہیں انگلش حالات سے ہم آہنگ ہونے کے لیے محدود وقت ملا ہے۔
ٹیم مینجمنٹ پر سوالات

پاکستان کرکٹ کے موجودہ بحران پر سابق کپتان اظہر علی نے بھی سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر عاقب جاوید کے فیصلے بار بار ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔

سابق آسٹریلوی کوچ جیسن گلیسپی نے بھی عاقب جاوید کو اپنے کردار اور فیصلوں کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔

پی سی بی نے اس دوران انگلینڈ میں پاکستانی اسکواڈ کے طرزِ عمل کی تحقیقات کا بھی اعلان کر دیا ہے، جس سے دورے کے دوران پیدا ہونے والے انتظامی اور ڈسپلن سے متعلق مسائل کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔
انگلینڈ کی نظریں وائٹ واش پر

دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم سیریز میں کلین سوئپ مکمل کرنے کے لیے میدان میں اترے گی۔ انگلینڈ نے ایک سال سے زائد عرصے بعد ٹیسٹ سیریز جیتی ہے اور کپتان جو روٹ کی دوبارہ قیادت میں واپسی بھی کامیاب رہی ہے۔

انگلینڈ کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنی حالیہ کامیابیوں کے باوجود وہی پیشہ ورانہ انداز برقرار رکھے جس نے اسے پاکستان کے خلاف فیصلہ کن برتری دلائی ہے۔

پاکستانی شائقین کو خدشہ ہے کہ اگر برمنگھم میں ٹیم کامیاب بھی ہو گئی تو یہ فتح موجودہ مسائل پر عارضی پردہ ڈال سکتی ہے، جبکہ بنیادی انتظامی اور کرکٹنگ مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔

پاکستان گزشتہ 20 ٹیسٹ میچوں میں صرف پانچ کامیابیاں حاصل کر سکا ہے۔ سابق کپتان اظہر علی نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب غیر مستقل مزاج نہیں رہا بلکہ منفی انداز میں ’’مسلسل‘‘ ہو گیا ہے۔

ایسے میں ایجبسٹن ٹیسٹ پاکستان کے لیے صرف سیریز میں پہلی فتح حاصل کرنے کا موقع نہیں بلکہ بحران کا شکار ٹیم میں اعتماد بحال کرنے اور مستقبل کے لیے سمت متعین کرنے کا امتحان بھی ہوگا۔