اللہ کی شان: کھوپڑی میں بیماریوں سے بچانے والے نئے دفاعی مراکز دریافت

امریکی سائنسدانوں نے چوہوں کی کھوپڑی کے بون میرو میں ایسے خصوصی مدافعتی مراکز دریافت کیے ہیں جو دماغ کو بیماریوں اور دیگر خطرات سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ساختیں اپنی شکل و ترتیب میں جسم کے دوسرے حصوں میں موجود لمف نوڈز سے مشابہ ہیں۔

تحقیق کے مطابق واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ماہرین نے کھوپڑی کے بون میرو میں بی سیلز اور ٹی سیلز کو منظم انداز میں اکٹھا پایا۔ یہ خلیے جسم کے مدافعتی نظام کا اہم حصہ ہیں اور جراثیم و بیماریوں کے خلاف دفاع میں مدد دیتے ہیں۔

دماغی رسولی کے خلاف فوری ردعمل

سائنسدانوں نے تجربات میں دیکھا کہ کھوپڑی کے یہ مدافعتی مراکز دماغ میں بننے والی رسولیوں کے خلاف گردن میں موجود لمف نوڈز کے مقابلے میں پہلے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

جب محققین نے گلائیوبلاسٹوما نامی خطرناک دماغی کینسر میں مبتلا چوہوں میں ان مراکز کی سرگرمی متاثر کی تو رسولیاں تیزی سے بڑھیں اور جانور جلد مر گئے۔ اس کے برعکس مدافعتی ردعمل کو بڑھانے پر چوہوں نے رسولیوں کے خلاف بہتر مزاحمت دکھائی اور زیادہ عرصے تک زندہ رہے۔

کھوپڑی صرف حفاظتی ڈھال نہیں

تحقیق سے یہ تصور مزید تبدیل ہو رہا ہے کہ کھوپڑی صرف دماغ کو بیرونی چوٹ سے بچانے والی ہڈی ہے۔ ماہرین کے مطابق کھوپڑی کے اندر موجود باریک راستے دماغ اور بون میرو کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، جس سے مدافعتی نظام دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کا مقامی طور پر جواب دے سکتا ہے۔

اگرچہ انسانی کھوپڑی کے بون میرو میں بھی اسی نوعیت کے مدافعتی خلیے پائے گئے ہیں، تاہم ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ انسانوں میں بھی یہ خلیے اسی طرح منظم ہو کر کام کرتے ہیں جیسے چوہوں میں۔

کینسر کے علاوہ دیگر بیماریوں میں بھی اہمیت؟

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر انسانی جسم میں بھی ان مراکز کا کردار ثابت ہوجاتا ہے تو مستقبل میں دماغی رسولیوں، انفیکشنز اور دیگر ایسی بیماریوں کے علاج میں نئی راہیں کھل سکتی ہیں جن میں مدافعتی نظام کا کردار ہوتا ہے۔

الزائمر اور پارکنسنز جیسی بیماریوں میں ان مدافعتی مراکز کی اہمیت بھی جاننے کی کوشش کی جائے گی، تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اس مرحلے پر انسانوں میں کسی علاج کی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔