آسٹریلیا میں شہریوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے شخصی نوعیت کے الگورتھمز سے آپٹ آؤٹ کرنے کا اختیار دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ مجوزہ قانون کےسپی کے مطابق ویڈیوز، پوسٹس اور دیگر مواد دکھاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایسے پروگرامنگ نظام یا ناپسند، پوسٹس، عمر، پیشے، مقام اور دیگر دستیاب معلومات کی بنیاد پر اندازہ لگاتے ہیں تحت بڑی ٹیک کمپنیوں کو کم عمر صارفین کو نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے میں ناکامی پر جرمانوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب صارفین کو ان کی دلچسپی کے مطابق ویڈیوز، پوسٹس اور دیگر مواد دکھاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایسے پروگرامنگ نظام استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں الگورتھمز کہا جاتا ہے۔
یہ الگورتھمز صارف کی آن لائن سرگرمی، اس کی پسند یا ناپسند، پوسٹس، عمر، پیشے، مقام اور دیگر دستیاب معلومات کی بنیاد پر اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ کس مواد پر زیادہ توجہ دے گا۔
الگورتھمز صارفین کو کیسے روکے رکھتے ہیں؟
ماہرین اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے فیچرز استعمال کیے جاتے ہیں جو صارفین کو زیادہ دیر تک اسڈ، وقفے وقفے سے ملنے والے غیر متوقع انعامات اور فوری نوعیت کی اطلاعات صارفین کو بار بار فون چیک کرنے اور مزیدکرولنگ جاری رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
لامتناہی فیڈ، وقفے وقفے سے ملنے والے غیر متوقع انعامات اور فوری نوعیت کی اطلاعات صارفین کو بار بار فون چیک کرنے اور مزید مواد دیکھنے کی جانب راغب کر سکتی ہیں۔
میکوری یونیورسٹی کے اعزازی پروفیسر مارک ولیمز کے مطابق پلیٹ فارمز نے ایسی خصوصیات تیار کی ہیں جو بچوں اور بڑوں کو ان کی خواہش سے زیادہ دیر تکٹیون رابرٹس کے مطابق اشتعال انگیز اور انتہائی نوعیت کا مواد زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے، جبکہ زیادہ توجہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے آن لائن رکھنے کے لیے کام کرتی ہیں، جس سے نیند، ذہنی بہبود اور حقیقی زندگی کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
جذباتی اور انتہا پسند مواد کا خدشہ
ماہرین کے مطابق الگورتھمز کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایسے مواد کو زیادہ نمایاں کر سکتے ہیں جس پر صارف جذباتی ردعمل ظاہر کرے۔
موناش یونیورسٹی کے اسٹیون رابرٹس کے مطابق اشتعال انگیز اور انتہائی نوعیت کا مواد زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے، جبکہ زیادہ توجہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے زیادہ آمدنی کا باعث بنتی ہے۔
الگورتھمز پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ نوعمر لڑکوں کو ’مینواسفیئر‘ یعنی ایسے آن لائن گروہوں اور شخصیات تک پہنچا رہے ہیں جیسے عام مواد سے شروع کرتے ہوئے بتدریج انتہائی اور پرتشدد مواد تک پہنچ جاتے ہیں، چاہے انہوں نے ابتدا میںہ مواد کے بجائے نسبتاً سادہ فیڈ دی جا سکے گی، جس میں بنیادی طور پر دوستوں، خاندان اور صارف کی جانب سے خود فالو جہاں خواتین سے نفرت، تشدد اور صنفی تعصب کو فروغ دیا جاتا ہے۔
میلبورن کی مردوں کی صحت سے متعلق تنظیم موومبر کی تحقیق کے مطابق نوجوان مرد بعض اوقات ورزش اور کھیلوں جیسے عام مواد سے شروع کرتے ہوئے بتدریج انتہائی اور پرتشدد مواد تک پہنچ جاتے ہیں، چاہے انہوں نے ابتدا میں ایسے مواد کی تلاش نہ کی ہو۔
آسٹریلیا کا مجوزہ قانون کیا کہتا ہے؟
آسٹریلیا کی مجوزہ قانون سازی کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کے لیے الگورتھم سے آپٹ آؤٹ کرنے کا اختیار دینا ہوگا۔ اس صورت میں صارف کو اس کی ذاتی معلومات اور آن لائن سرگرمیوں کی بنیاد پر تیار کردہ مواد کے بجائے نسبتاً سادہ فیڈ دی جا سکے گی، جس میں بنیادی طور پر دوستوں، خاندان اور صارف کی جانب سے خود فالو کیے گئے صفحات کی تازہ پوسٹس شامل ہوں گی۔
مجوزہ اقدامات کے تحت ٹیک کمپنیوں کو 18 سال سے کم عمر صارفین کو فحش مواد، آن لائن ہراسانی، جرم کی ترغیب یا اس کی تعریف کرنے والے مواد اور کھانے پینے کی ایسی عادات سے متعلق نقصان دہ مواد سے بھی محفوظ رکھنا ہوگا جو صحت کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں۔
اس اقدام کو مائی فیڈ، مائی وے کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد صارفین کو یہ اختیار دینا ہے کہ وہ فیصلہ کر سکیں کہ ان کی سوشل میڈیا فیڈ کس طرح تیار کی جائے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر آپٹ آؤٹ کا اختیار ملنے کے باوجود ضروری نہیں کہ بڑی تعداد میں لوگ اسے استعمال کریں۔
سال 2025 میں چھ ممالک کے 6 ہزار سے زائد افراد پر کیے گئے ایک سروے میں صرف ہر پانچ میں سے ایک شخص نے کہا تھا کہ اگر کی دلچسپی برقرار رکھنے میں اتنے مؤثر ہو چکے ہیں کہ بہت سے لوگ اس سہولت کو چھوڑنے کے بعد سادہ فیڈ اسے موقع دیا جائے تو وہ ذاتی نوعیت کی سفارشات بند کر دے گا۔
ماہرین کے مطابق الگورتھمز صارفین کی دلچسپی برقرار رکھنے میں اتنے مؤثر ہو چکے ہیں کہ بہت سے لوگ اس سہولت کو چھوڑنے کے بعد سادہ فیڈ کو نسبتاً خاموش اور کم دلچسپ محسوس کر سکتے ہیں۔



