ٹی ٹوئنٹی لیگز سے ون ڈے کرکٹ محدود ہوسکتی ہے: پونٹنگ کی پیشگوئی

آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ نے پیشگوئی کی ہے کہ دنیا بھر میں ٹی ٹوئنٹی لیگز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث آئندہ برسوں میں 50 اوورز کی ون ڈے کرکٹ بین الاقوامی کیلنڈر میں بتدریج محدود ہوتی جائے گی، تاہم ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے وہ پُرامید ہیں۔

کرک انفو کے مطابق رکی پونٹنگ کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طور پر ون ڈے کرکٹ کو کم ہوتے دیکھنا پسند نہیں کریں گے، کیونکہ انہیں یہ فارمیٹ بہت پسند ہے، تاہم موجودہ حالات میں کوئی نہ کوئی تبدیلی ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔

رکی پونٹنگ نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ اس وقت تک مضبوط رہے گی جب تک بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقا جیسے ممالک ٹیسٹ کرکٹ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے لیکن ٹی ٹوئنٹی شیڈول میں ایڈجسٹمنٹ کے لیے سب سے بڑی قربانی 50 اوورز کی کرکٹ ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی 20 ٹورنامنٹس سے سب سے زیادہ فائدہ کھلاڑیوں کو ہو رہا ہے، خصوصاً وہ کرکٹرز جو اپنے کیریئر کے آخری مرحلے میں ہیں۔ انہوں نے ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز (ڈبلیو سی ایل) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسی لیگز سابق اور عمر رسیدہ کھلاڑیوں کو دوبارہ کھیلنے اور آمدنی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

دوسری جانب آسٹریلوی اوپنر ڈیوڈ وارنر نے کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے ایک اور دلچسپ تصور پیش کرتے ہوئے کہا کہ کھیل بتدریج انگلش پریمیئر لیگ (ای پی ایل) جیسے ماڈل کی طرف بڑھ سکتا ہے، جہاں مختلف فرنچائزز اور مقابلے کھلاڑیوں کی تعداد سے متعلق قوانین الگ ہیں۔ فرنچائز کرکٹ کے مکمل عالمی رہی ہے، کیونکہ دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں نئے اور ابھرتے ہوئے کرکٹرز کو اعلیٰ سطح پر کھیلنے کا موقع مل رہا مرکزی حیثیت اختیار کرلیں۔

تاہم وارنر کے مطابق کرکٹ میں ایسا نظام نافذ کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ مختلف ممالک میں مقامی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کی تعداد سے متعلق قوانین الگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرنچائز کرکٹ کے مکمل عالمی ماڈل کے لیے موجودہ قوانین میں بڑی تبدیلیاں کرنا پڑیں گی۔