گوگل کا فن لینڈ میں 13 ارب یورو کا اے آئی دھماکا

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے فن لینڈ میں کم از کم 13 ارب یورو (تقریباً 15 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ یورپ میں اس کی اب تک کی سب سے بڑی سنگل سرمایہ کاری ہوگی۔

اس منصوبے کے تحت گوگل فن لینڈ میں ڈیٹا سینٹرز اور دیگر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو وسعت دے گا، جبکہ آئندہ دو برس کے دوران صاف توانائی کے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ نئے انفراسٹرکچر سے گوگل کی مختلف اے آئی سروسز، جن میں جیمنائی چیٹ بوٹ بھی شامل ہے، کو بجلی اور کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کی جائے گی۔

گوگل فن لینڈ کی چار میونسپلٹیز ہامینا، کایانی، موہوس اور والا کے ساتھ شراکت داری کرے گا۔ کمپنی پہلے ہی ساحلی شہر ہامینا میں ایک بڑے ڈیٹا سینٹر کمپلیکس کو چلا رہی ہے، جہاں سابق کاغذی مل کی جگہ 2009 میں ڈیٹا سینٹر قائم کیا گیا تھا۔ گوگل کے مطابق ہامینا کا مرکز اب تک سات مرتبہ توسیع پا چکا ہے اور اس میں سات ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں۔ اب اس مقام کو مزید وسعت دینے کے ساتھ تین نئے مقامات پر بھی ڈیٹا سینٹر آپریشنز شروع کیے جائیں گے۔

گوگل کے مطابق نئے منصوبوں کی تعمیر 2027 اور 2028 کے دوران متوقع ہے۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ یہ سرمایہ کاری فن لینڈ کی معیشت میں سالانہ تقریباً 3.6 ارب یورو کا اضافہ کرے گی اور 37 ہزار سے زائد ملازمتوں کو سہارا دے گی۔ ان میں تقریباً 16 ہزار ملازمتیں تعمیراتی مرحلے کے دوران پیدا ہوں گی، جبکہ منصوبوں کے فعال ہونے کے بعد ہر سال تقریباً 7 ہزار براہِ راست اور بالواسطہ ملازمتیں برقرار رہیں گی۔

فن لینڈ کے وزیراعظم پیٹری اورپو نے سرمایہ کاری کو ملک کے لیے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن لینڈ نے بجلی کے گرڈ، توانائی کی پیداوار اور افرادی قوت میں درست سمت میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کے مطابق اس سے فن لینڈ ڈیجیٹلائزیشن اور AI کے میدان میں ایک نمایاں ملک بننےری توانائی کے ساتھ ہوا اور پن بجلی کے وسیع وسائل اسے ڈیٹا سینٹرز کے لیے پر کی پوزیشن میں آئے گا۔

فن لینڈ کا نسبتاً سرد موسم، مستحکم بجلی کی فراہمی اور جوہری توانائی کے ساتھ ہوا اور پن بجلی کے وسیع وسائل اسے ڈیٹا سینٹرز کے لیے پرکشش بنا رہے ہیں۔ ملک میں پہلے ہی متعدد ڈیٹا سینٹر منصوبے زیرِ تعمیر ہیں۔

تاہم ڈیٹا سینٹرز میں تیزی سے اضافے کے باعث بجلی کی طلب میں نمایاں اضافے کا خدشہ بھی ہے۔ فن لینڈ کے بجلی کے نیٹ ورک آپریٹر فن گرڈ کے مطابق آنے والے برسوں میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین اور حکام نے ماحولیاتی اثرات، گھریلو صارفین کے لیے توانائی کی ممکنہ بڑھتی قیمتوں اور غیرملکی ملکیت والے ڈیٹا سینٹرز سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

اسی روز فن لینڈ کی توانائی کمپنی فورٹم نے گوگل کے ساتھ 22 سالہ بجلی فراہمی کا معاہدہ بھی کیا۔ اس معاہدے کے تحت گوگل کو بجلی فراہم کی جائے گی اور فن لینڈ کے لوویساجوہری بجلی گھر کو اس کے موجودہ آپریٹنگ لائسنس کے اختتام یعنی 2050 تک چلانے میں مدد ملے گی۔ فورٹم کے مطابق یہ معاہدہ نہ ہوتا تو پلانٹ کو 2030 کے بعد جاری رکھنا ممکن نہ ہوتا۔ لوویسااس وقت فن لینڈ کی تقریباً 10 فیصد بجلی پیدا کرتا ہے۔