موسمیاتی تبدیلی: گست 2026 گزشتہ ایک لاکھ سال کا گرم ترین مہینہ قرار

یورپی یونین کے موسمیاتی مانیٹرنگ ادارے کوپرنیکس نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال اگست دنیا بھر میں اب تک ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ رہا، جبکہ سمندروں کا درجہ حرارت بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گیا۔

کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق اگست میں عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت 16.96 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو جولائی 2023 کے سابقہ ریکارڈ سے 0.01 ڈگری زیادہ ہے۔ تاہم معمولی فرق کے باعث ادارے نے دونوں مہینوں کو تقریباً مشترکہ طور پر گرم ترین قرار دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی سرگرمیاں، خصوصاً کوئلے، تیل اور گیس کا بڑے پیمانے پر استعمال، عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ صنعتی دور سے اب تک زمین کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب اور دیگر موسمیاتی واقعات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے موسمیاتی امور کے سربراہ سائمن اسٹیل نے کوپرنیکس کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوسل فیول پر دنیا کا انحصار ختم نہ ہوا تو موسمیاتی بحران مزید سنگین شکل اختیار کرتا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت بھی ریکارڈ بلندی تک پہنچ گیا۔ دنیا کے سمندروں نے گرین ہاؤس گیسوں کے باعث پیدا ہونے والی اضافی گرمی کا 90 فیصد سے زیادہ جذب کیا ہے، جس سے زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار کسی حد تک کم ہوئی، تاہم سمندری حیات، مرجانی چٹانوں اور ساحلی علاقوں کے لیے اس کے سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

بحر اوقیانوس، بحیرہ روم اور بحرالکاہل کے کئی حصوں میں بھی غیر معمولی گرمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق بحرالکاہل میں ال نینو کا طاقتور مرحلہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے، جس کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں شدید موسم، سیلاب، خشک سالی اور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب کوپرنیکس نے بتایا کہ جون سے اگست تک مغربی یورپ نے اپنی تاریخ کی گرم ترین گرمیوں کا سامنا کیا، جس دوران مسلسل ہیٹ ویوز نے معمولات زندگی متاثر کیے، دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہوئی اور جنگلات میں آگ کے خطرات میں اضافہ ہوا۔

امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق امریکا کے بیشتر حصے نے بھی ریکارڈ گرم ترین موسم گرما گزارا، جبکہ دنیا کے مختلف خطوں میں تقریباً 90 کروڑ افراد نے اب تک کا گرم ترین جولائی برداشت کیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی نہ لائی گئی تو آنے والے مہینوں اور برسوں میں درجہ حرارت کے مزید ریکارڈ قائم ہونے کا امکان ہے، جبکہ طاقتور ال نینو کے باعث 2026 یا 2027 کے گرم ترین سال بننے کے امکانات بھی موجود ہیں۔