حکومت گاڑیاں سستی اور ٹیکس چھوٹ پر تیار: تجاویز آئی ایم ایف کو بھجوادیں

حکومت نے نئی آٹو پالیسی 2026-31 کا مسودہ تیار کر کے آئی ایم ایف کو ارسال کر دیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق وزارت صنعت و پیداوار کا کہنا ہےکہ آئی ایم ایف سے آن لائن اور آئندہ اقتصادی جائزہ مذاکرات میں اس مسودے پر حتمی مشاورت کی جائے گی۔نئی پالیسی کا بنیادی مقصد گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنا، برآمدات بڑھانا اور الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینا ہے۔

پالیسی میں ماحول دوست اور ایندھن بچانے والی گاڑیوں کے لیے خصوصی مراعات اور ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز شامل ہے۔صارفین کے تحفظ کے لیے نئی پالیسی میں اہم شق شامل کی گئی ہے۔

اس کے مطابق گاڑی کی بکنگ کے بعد اگر قیمت بڑھتی ہے تو اس کی ذمہ داری مینوفیکچرنگ کمپنی پر ہوگی۔ اس کے علاوہ کار خریدنے کے لیے بکنگ کے وقت صارفین کو ڈیلیوری کی تاریخ بتانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار نے مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لیے 6 اصول بھی طے کیے ہیں جن پر مکمل عملدرآمد کرنا ہوگا۔برآمدات کے فروغ کے لیے پالیسی میں سخت اہداف رکھے گئے ہیں۔ دستاویز کے مطابق 2026-27 میں کار ساز کمپنیوں کے لیے 4 فیصد برآمد لازمی ہوگی جو 2030-31 تک بڑھ کر 20 فیصد ہو جائے گی۔ آٹو پارٹس بنانے والوں کے لیے ہدف 5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ آٹو پارٹس کو عالمی سپلائی چین سے جوڑ کر ڈالر کمانے ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے ڈی ایل ٹی ایل اسکیم اور آٹو پارٹس ایکسپورٹ کونسل بنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ کارکردگی کے اہداف نامکمل ہونے پر جرمانے اور اہداف مکمل ہونے پر انعامات دیے جائیں گے۔الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے پالیسی میں بڑے ریلیف دیے گئے ہیں۔ ای وی، پی ایچ ای وی اور آر ای ای وی کو برابر کا درجہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجلی والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، سی وی ٹی اور ودہولڈنگ ٹیکس معاف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشن کے سامان پر کسٹم ڈیوٹی صرف 1 فیصد عائد کرنے کی تجویز ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بینک قرض کی حد بھی 1 کروڑ روپے تک بڑھا کر مدت 3 سے 5 سال کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔عام گاڑیوں کے لیے بھی ریلیف کی تجویز ہے۔ دستاویز کے مطابق اگلے 5 سال میں عام گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی میں 80 فیصد تک کمی کی جائے گی۔