پاکستان کے اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ریڈ بال کرکٹ سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ ہمیشہ ان کی پہلی ترجیح رہی ہے۔ شاہین آفریدی ہفتے سے شروع ہونے والی پریذیڈنٹ ٹرافی میں خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) کی نمائندگی کریں گے۔
کرک انفو کےمطابق شاہین آفریدی سات سال بعد پاکستان میں اپنا پہلا فرسٹ کلاس میچ کھیلنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے 2017 میں کم عمری میں کے آر ایل کی جانب سے فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا تھا اور اس میچ میں شاندار بولنگ کرتے ہوئے 39 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
شاہین کا کہنا ہے کہ انہیں ریڈ بال کرکٹ ہمیشہ سے پسند رہی ہے، تاہم بین الاقوامی کرکٹ کی مصروفیات کے باعث انہیں اس فارمیٹ میں زیادہ کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ گزشتہ چند ماہ میں زیادہ کرکٹ نہ کھیلنے کے بعد اب پریذیڈنٹ ٹرافی ان کے لیے ریڈ بال کرکٹ میں واپسی کا اہم موقع ہے۔
پاکستان کے دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے شاہین آفریدی ٹیسٹ اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے۔ اب وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی دکھا کر دوبارہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔
شاہین آفریدی نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں زیادہ وقت میدان میں گزارنے سے اعتماد بڑھتا ہے اور لائن و لینتھ بھی بہتر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی اسی انداز سے بولنگ کرنے کی کوشش کریں گے جس طرح ٹیسٹ کرکٹ میں کرتے رہے ہیں۔
فاسٹ بولر نے اپنے بڑے بھائی ریاض آفریدی سے بھی سیکھنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طویل فارمیٹ میں بہت زیادہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہے۔ شاہین کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی مسلسل بین الاقوامی کرکٹ کھیلتا رہے تو اس کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی قدرے مشکل ہوسکتی ہے، لیکن فارغ وقت میں کھلاڑیوں کو لازمی طور پر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنی چاہیے۔
شاہین آفریدی حال ہی میں چیمپئنز کپ میں بھی عمدہ کارکردگی دکھا چکے ہیں۔ وہ ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر رہے اور فائنل میں 36 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کرتے ہوئے اپنی ٹیم پاکستان گولڈ کو ٹائٹل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اب شاہین کی نظریں ریڈ بال کرکٹ میں اپنی فارم ثابت کرنے اور دوبارہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنانے پر ہیں۔ پاکستان کو آئندہ سیزن میں سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز بھی کھیلنی ہیں، جہاں شاہین کی واپسی پاکستانی فاسٹ بولنگ کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔


