شمالی کوریا نے امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی پانچ روزہ مشترکہ فوجی مشقوں کے اختتام کے ایک روز بعد سمندر کی جانب کئی قلیل فاصلے کے بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل ہفتے کے روز شمالی کوریا کے مشرقرقی سمندری پانیوں میں جا گرے۔ میزائل داغے جانے کے بعد جنوبی کوریا نے نگرانی مزید بڑھا دیی علاقے وونسان سے داغے گئے۔
جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق میزائل تقریباً 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ملک کے مشرقی سمندری پانیوں میں جا گرے۔ میزائل داغے جانے کے بعد جنوبی کوریا نے نگرانی مزید بڑھا دی ہے اور امریکا اور جاپان کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ہواسونگ 11 میزائل استعمال کیے جانے کا امکان
جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا نے ہواسونگ 11 سیریز کے بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ 600 ملی میٹر کے متعدد راکٹ لانچرز بھی استعمال سلامتی کونسل نے شمالی کوریا سے میزائل تجربات روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف کہ مشقیں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان کیے۔ ذرائع کے مطابق دونوں نظام مختلف مواقع پر یکے بعد دیگرے فائر کیے گئے۔
جنوبی کوریا کی صدارتی قومی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا سے میزائل تجربات روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔
امریکی پیسیفک کمانڈ نے کہا ہے کہ میزائل لانچ سے امریکی سرزمین یا خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کو فوری خطرہ لاحق نہیں ہوا۔ واشنگٹن نے خطے میں اپنے اتحادیوں کے دفاع کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔
فریڈم ایج فوجی مشقوں پر پیانگ یانگ کا ردعمل
میزائل تجربات سے ایک روز قبل امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان نے فریڈم ایج نامی پانچ روزہ مشترکہ فوجی مشقیں مکمل کی تھیں۔ ان مشقوں میں فضائی، بحری اور سائبر شعبوں میں مشترکہ تربیت شامل تھی، جبکہ سمندری نقل و حرکت، فضائی ایندھن کی فراہمی اور سائبر رابطہ کاری بھی مشقوں کا حصہ تھی۔
جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ مشقیں دفاعی نوعیت کی تھیں اور ان کا مقصد شمالی کوریا کے جوہری خطرے سے نمٹنے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ ردعمل کی صلاحیت مضبوط کرنا تھا۔
شمالی کوریا کے وزیر دفاع کم سونگ گی نے مشقوں کے آغاز پر انہیں اشتعال انگیز قرار دیا تھا اور ’’مضبوط اور فیصلہ کن جوابی اقدامات‘‘ کی دھمکی دی تھی۔
تین ہفتوں بعد میزائل تجربہ
ہفتے کا میزائل تجربہ تقریباً تین ہفتوں میں شمالی کوریا کا پہلا میزائل تجربہ ہے۔ گزشتہ ماہ بھی امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران پیانگ یانگ نے 10 سے زائد قلیل فاصلے کے میزائل فائر کیے تھے۔
جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی ایسے وقت میں برقرار ہے جب شمالی کوریا اپنے میزائل اور جوہری پروگرام کو مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔
امریکا، جنوبی کوریا تعلقات میں نئی صورتحال
میزائل تجربات ایسے وقت میں بھی ہوئے ہیں جب امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے حوالے سے واشنگٹن نے کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔
گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ سالانہ الچی فریڈم شیلڈ مشقوں کو نمایاں طور پر محدود کرنے کا حکم دیا تھا۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کو شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے تعلقات سے بھی جوڑا تھا۔
تاہم کم جونگ اُن کی بہن اور سینئر عہدیدار کم یو جونگ نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشقوں کا دورانیہ کم کرنے سے ان کی ’’اشتعال انگیز اور جارحانہ‘‘ نوعیت تبدیل نہیں ہوگی۔
کم جونگ اُن کا جوہری صلاحیت بڑھانے پر زور
گزشتہ اتوار کم جونگ اُن نے شمالی کوریا کی دوسری بحری ڈسٹرائر کی شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی جوہری دفاعی صلاحیت میں توسیع پر زور دیا تھا۔ دونوں ڈسٹرائرز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائل لے جانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے ہتھیاروں کے پروگرام اور روس و چین کے ساتھ مضبوط ہوتے تعلقات نے کم جونگ اُن کی سفارتی پوزیشن کو تقویت دی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پیانگ یانگ مستقبل میں واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ مذاکرات میں مزید رعایت اپنی ’’دشمنانہ پالیسی‘‘ ترک کرے اور شمالی کوریا کی جوہری ریاست کی حیثیت تسلیم کرے تو وہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی میزیں حاصل کرنے کے لیے اپنی بڑھتی فوجی طاقت کو استعمال کرسکتا ہے۔
کم جونگ اُن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکا اپنی ’’دشمنانہ پالیسی‘‘ ترک کرے اور شمالی کوریا کی جوہری ریاست کی حیثیت تسلیم کرے تو وہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر غور کرسکتے ہیں۔


