یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے براہِ راست ملاقات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پیوٹن دسمبر میں امریکا کے شہر میامی میں ہونے والے جی 20 سربراہ اجلاس میں شرکت کرتے ہیں تو وہ بھی وہاں جائیں گے اور دونوں رہنماؤں کو جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کرنی چاہیے۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کو خصوصی انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ ’’ہمیں وہاں جانا، ملنا، بات کرنا اور فیصلے کرنا ہوں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ملاقات میں کون کیا کہتا ہے، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں کیا حاصل ہوتا ہے۔
روس کے یوکرین پر فروری 2022 میں مکمل حملے کے بعد زیلنسکی اور پیوٹن کی اب تک بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔ کریملن نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ روسی صدر میامی میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ پیوٹن نے 2019 کے بعد ذاتی طور پر کسی جی 20 سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین مذاکرات کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہےانہوں نے کہا کہ حالیہ حالات میں ان کا ملک گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے اور روس کو میدان جنگ میں محدود پیش رفت کے لیے بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
یوکرینی صدر کے مطابق روس کو ہر ماہ 30 ہزار سے زائد فوجیوں کے نقصان کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ان کے خیال میں یوکرین امن مذاکرات کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے امریکی خصوصی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے حالیہ دورۂ کیف کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندوں کا صرف ماسکو نہیں بلکہ کیف آنا بھی اہم اشارہ ہے۔
یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کی شدید ضرورت
ولادیمیر زیلنسکی نے موسم سرما سے قبل روسی فضائی حملوں کے مقابلے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائلوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق روس اس وقت ہر ماہ تقریباً 140 بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے، جبکہ یوکرین کے لیے مطلوبہ دفاعی صلاحیت حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو زیادہ سے زیادہ دفاعی میزائل فراہم کیے جائیں۔ جرمنی نے بھی رواں ہفتے اپنے قومی ذخیرے سے پیٹریاٹ میزائل فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم تعداد نہیں بتائی گئی۔
زیلنسکی نے بتایا کہ یوکرین نے یورپی کمپنیوں کے ساتھ مل کر فریا نامی یوکرینی قیادت میں تیار کیے جانے والے اینٹی میزائل نظام پر بھی معاہدے کیے ہیں اور امید ہے کہ اس کے ابتدائی تجربات دسمبر کے اختتام تک شروع ہوجائیں گے۔
کینیڈا کے ساتھ 100 سالہ شراکت داری
زیلنسکی نے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کو بھی اہم قرار دیا۔ دونوں ممالک نے 100 سالہ شراکت داری کے اعلامیے پر دستخط کیے ہیں، جس میں سکیورٹی، توانائی، مالی معاونت، سابق فوجیوں کی پالیسی، ثقافت اور انسانی امور سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
یوکرین اور کینیڈا کے درمیان ڈرونز کی تیاری کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ بھی ہوا ہے، جس میں متعدد یوکرینی کمپنیاں شامل ہوں گی۔
توانائی اور اناج کا جنگ بندی منصوبہ
زیلنسکی نے بتایا کہ امریکی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں توانائی اور اناج کے شعبوں میں جنگ بندی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ان کے مطابق یہی دونوں شعبے وسیع تر امن مذاکرات کی جانب ابتدائی قدم بن سکتے ہیں۔
بحیرہ اسود میں روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کے باعث دونوں جانب سے بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے اور برآمدات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زیلنسکی کے مطابق روس کی جانب سے یوکرین کی بحیرہ اسود کی بندرگاہوں پر مؤثر ناکہ بندی کے باعث اگست میں یوکرین کی اناج برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 76 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یوکرینی صدر کے مطابق توانائی اور اناج کے شعبوں میں محدود جنگ بندی سے اعتماد سازی کا آغاز ہوسکتا ہے، جو مستقبل میں وسیع تر امن مذاکرات کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔


