یورپ میں اے آئی گلاسز پر پابندی کی آوازیں بلند

برطانیہ سمیت یورپ میں مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ گلاسز کے استعمال اور فروخت کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ لڑکیوں اور خواتین کی خفیہ ویڈیوز بنائے جانے کے واقعات سامنے آنے کے بعد برطانیہ میں ان چشموں کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ یورپ میں ان کے استعمال کے لیے سخت قوانین بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

اے آئی اسمارٹ گلاسز میں کیمرے، مائیکروفون اور مصنوعی ذہانت کی سہولت موجود ہوتی ہے، جن کے ذریعے صارف تصاویر اور ویڈیوز بنا سکتا ہے، فون کالز کرسکتا ہے، موسیقی سن سکتا ہے، تحریر کا ترجمہ کرسکتا ہے اور اے آئی اسسٹنٹ سے رابطہ کرسکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے انہیں ااسمارٹ فون کے بعد اگلی بڑی پہننے والی ٹیکنالوجی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

میٹا کے گلاسز کی مقبولیت میں اضافہ

میٹا کے اسمارٹ گلاسز نے حالیہ عرصے میں خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔ کمپنی نے معروف امریکی شخصیت کائلی جینر کے ساتھ تشہیری شراکت داری بھی کی۔ یہ چشمے میٹا نے رے بین کے مالک ادارے ایسِلور لکسوٹیکا کے ساتھ مل کر تیار کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میٹا نے 2025 میں تقریباً 70 لاکھ جوڑے فروخت کیے، جبکہ 2023 اور 2024 میں مجموعی فروخت تقریباً 20 لاکھ جوڑے تھی۔ گوگل اور اسنیپ سمیت دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اے آئی سے لیس اسمارٹ گلاسز متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہیں۔
خفیہ ریکارڈنگ نے خطرے کی گھنٹی بجادی

اسمارٹ گلاسز کی بڑھتی مقبولیت کے ساتھ ان کے غلط استعمال پر خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ برطانیہ میں ایسے چشموں سے خواتین اور لڑکیوں کو ان کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کیے جانے کے واقعات نے خاصی تشویش پیدا کی ہے۔

ایک 17 سالہ برطانوی لڑکی نے اگست میں بتایا کہ ایک شخص نے اس کے ساتھ گفتگو کے دوران اسے خفیہ طور پر ریکارڈ کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عام لوگوں کے لیے یہ جاننا مشکل ہوسکتا ہے کہ انہیں کب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

میٹا کا مؤقف ہے کہ ریکارڈنگ کے دوران روشن ہونے والی ایل ای ڈی لائٹ سے چھیڑ چھاڑ روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ایسے اقدامات کے بعد بعض افراد یا کمپنیوں نے ایل ای ڈی لائٹ کو غیر فعال کرنے کی خدمات بھی بند کردی ہیں

اوسلو میں اسکولوں میں پابندی

ناروے کے دارالحکومت اوسلو نے اسمارٹ گلاسز کے استعمال سے متعلق خدشات کے پیش نظر اسکولوں میں ان پر پابندی عائد کردی ہے۔ ناروے کی حکومت عوامی مقامات پر چہرے کی شناخت کی سہولت سے متعلق ممکنہ پابندی سمیت اسمارٹ گلاسز کے استعمال کو منظم کرنے کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔

فرانس کے ڈیٹا پروٹیکشن ادارے سی این آئی ایل نے بھی شہریوں کو اسمارٹ گلاسز کے معاملے میں محتاط رہنے پر زور دیا ہے۔

یورپی یونین سے واضح قوانین کا مطالبہ

یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ اسمارٹ گلاسز کے لیے واضح ضابطے بنائے جائیں اور موجودہ پرائیویسی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

یورپی پارلیمنٹ کی رکن ویرونیکا سیفرووا اوسٹریہونووا نے خواتین کی خفیہ ریکارڈنگ کے واقعات کے بعد یورپی کمیشن سے یہ وضاحت بھی طلب کی ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی یورپی ڈیٹا پروٹیکشن اور مصنوعی ذہانت سے متعلق قوانین کے مطابق ہے۔

یورپی کمیشن کے مطابق پرائیویسی قوانین کی نگرانی اور ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری قومی ڈیٹا پروٹیکشن اداروں کی ہے۔ دوسری جانب یورپی ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ نے اسمارٹ گلاسز کی سماجی قبولیت اور ان کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک رپورٹ تیار کروائی ہے۔

برطانیہ میں پابندی کی مہم

برطانیہ اور آئرلینڈ میں ’’اسٹاپ اسمارٹ گلاسز‘‘ کے نام سے مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ مہم کے تحت اسمارٹ گلاسز کی فروخت روکنے کے لیے پٹیشن پر دستخط جمع کیے جا رہے ہیں، جس پر 9 ہزار سے زائد افراد دستخط کرچکے ہیں۔

مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف خفیہ ویڈیوز بنانے تک محدود نہیں بلکہ عوامی مقامات میں پرائیویسی کے مستقبل سے بھی متعلق ہے۔ ان کے مطابق ایسی ٹیکنالوجی کے عام ہونے سے یہ خدشہ بڑھ سکتا ہے کہ لوگ خود کو ہر وقت غیر محسوس نگرانی اور ریکارڈنگ کے خطرے میں محسوس کریں۔

یوں اے آئی اسمارٹ گلاسز نے ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی امکانات ضرور پیدا کیے ہیں، لیکن ان کے ساتھ رضامندی، پرائیویسی، ڈیٹا کے تحفظ اور چہرے کی شناخت جیسے اہم سوالات بھی سامنے آگئے ہیں۔ یورپ میں جاری بحث اب اس بات پر مرکوز ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کو مکمل آزادی دی جائے یا اس کے پھیلاؤ سے پہلے سخت حفاظتی اور قانونی ضابطے نافذ کیے جائیں۔