اے آئی کے خطرات کی وارننگ: عالمی سطح پرٹیک کمپنیوں کے حصص میں شدید مندی

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں ترقی کی رفتار محدود کرنے کی اپیل کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص دباؤ کا شکار ہوگئے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کی پریشانی میں اضافہ کردیا۔

اے آئی کمپنی اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی نے ہفتے کو اے آئی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کو کچھ کم کریں تاکہ اس سے وابستہ خطرات کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔ ان کی سب سے بڑی تشویش ’’ریکَرِسیو سیلف امپروومنٹ‘‘ ہے، یعنی ایسا اے آئی جو اپنی اگلی نسل خود تیار کرنے کے قابل ہوجائے۔

اموڈی کا کہنا تھا کہ اگر اس عمل کو بے قابو چھوڑ دیا گیا تو اے آئی انسانوں کی اسے سمجھنے اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت سے آگے نکل سکتا ہے، اس لیے اس معاملے میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔

ان کے مؤقف کی اے آئی کی دنیا میں موجود اہم حریفوں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے بھی حمایت کی۔ ایلون مسک نے مختصر ردعمل میں کہا کہ ’’ڈاریو درست کہہ رہے ہیں۔‘‘

اے آئی کے ممکنہ خطرات سے متعلق ان خدشات کے بعد پیر کو ایشیائی مارکیٹوں میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ جاپان میں سافٹ بینک کے حصص میں 12 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جبکہ چِپ ساز کمپنی کیوکشیا کے حصص 7 فیصد سے زیادہ گر گئے۔ ایڈوانٹیسٹ کے حصص میں بھی 2 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔

جنوبی کوریا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں ایس کے ہائنکس اور سام سنگ کے حصص بھی نمایاں دباؤ میں رہے، جبکہ ایشیا کی وسیع تر اسٹاک مارکیٹوں میں سیئول کا کوسپی انڈیکس سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ ٹوکیو، ہانگ کانگ، شنگھائی، تائی پے اور منیلا کی مارکیٹیں بھی مندی کا شکار رہیں۔

فیڈ کی شرح سود میں اضافے کا خدشہ

سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس پر بھی مرکوز ہے۔ مارکیٹ میں توقع کی جارہی ہے کہ امریکی مرکزی بینک بدھ کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے۔

گزشتہ ہفتے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں مہنگائی اب بھی فیڈ کے 2 فیصد ہدف سے خاصی بلند ہے، جس کے باعث شرح سود میں کمی کے بجائے مزید سخت مالیاتی پالیسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

پیپر اسٹون کے کرس ویسٹن کے مطابق مارکیٹ میں شرح سود بڑھنے کے امکان کو تقریباً 92 فیصد تک قیمتوں میں شامل کیا جاچکا ہے، جبکہ رواں سال کے اختتام تک مجموعی طور پر 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع بھی کی جارہی ہے۔

مشرق وسطیٰ کا بحران، تیل 100 ڈالر سے اوپر

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی افراط زر کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خام تیل کی دونوں اہم اقسام کی قیمتوں میں پیر کو 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا اور قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں۔

سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں کے بعد اپنی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بند کردی، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

یمن کے حوثی گروپ نے باب المندب آبنائے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیا ہے۔ یہ اہم بحری گزرگاہ یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کے لیے استعمال ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے اثرات امریکا میں بھی نمایاں ہوئے ہیں، جہاں جمعے کو ڈیزل کی اوسط قیمت پہلی مرتبہ 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی۔ ڈیزل ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لیے انتہائی اہم ایندھن ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

دریں اثنا عمان نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے مستقبل سے متعلق مذاکرات بھی مؤخر کردیے ہیں۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کے ایک بڑے حصے کے لیے انتہائی اہم ہے۔