غزہ میں انسانی بحران: نوزائیدہ بچےبھی اسرائیلی بربریت کا شکار،اسپتالوں میں آلات کی شدید کمی

غزہ میں جاری جنگ اور طبی سہولیات کی شدید قلت نے قبل از وقت پیدا ہونے والے نومولود بچوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جنوبی غزہ کے ناصر اسپتال میں انکیوبیٹرز اور آکسیجن کی کمی کے باعث بعض اوقات دو، حتیٰ کہ تین نومولود بچوں کو ایک ہی انکیوبیٹر میں رکھا جارہا ہے۔

ناصر اسپتال کے شعبہ نومولود کے سربراہ حاتم ظہیر کے مطابق اسپتال میں بچوں کے لیے آکسیجن دستیاب نہیں اور اضافی انکیوبیٹرز بھی موجود نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان بچوں کو دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم وہاں بھی گنجائش ختم ہوچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ مہینوں میں قبل از وقت پیدائش کے ساتھ ساتھ جڑواں اور تین بچوں کی پیدائش کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اسپتال کے محدود وسائل پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے کے مطابق رواں سال مارچ میں غزہ میں تقریباً ہر تین میں سے ایک حمل ہائی رسک قرار دیا گیا تھا، جبکہ تقریباً 70 فیصد نومولود قبل از وقت یا کم وزن پیدا ہو رہے تھے۔ ادارے نے خبردار کیا تھا کہ ایک انکیوبیٹر میں ایک سے زیادہ بچوں کو رکھنے سے اموات کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ نے غزہ کے صحت کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ متعدد طبی مراکز مکمل یا جزوی طور پر ناقابل استعمال ہوچکے ہیں، جبکہ غزہ میں داخل ہونے والی طبی اشیا اور خصوصی طبی آلات پر پابندیوں کے باعث اسپتالوں میں ضروری سامان کی قلت برقرار ہے۔

ماؤں اور بچوں کی صحت بھی شدید متاثر

جنگ کے باعث غزہ کی تقریباً پوری آبادی کم از کم ایک مرتبہ بے گھر ہوچکی ہے۔ بڑے پیمانے پر تباہی، خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی، صاف پانی اور صفائی کی سہولیات کی کمی نے حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن کے مطابق خوراک، طبی سامان اور ایندھن کی شدید قلت اور صحت کے نظام کے انہدام نے ماؤں کی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس صورتحال میں اسقاط حمل، مردہ بچوں کی پیدائش، کم وزن بچوں اور پیدائشی نقائص کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

جنوبی غزہ میں ایک نومولود بچی کو دل کے پیدائشی نقص کے باعث ناصر اسپتال لایا گیا، تاہم وہاں اس کے علاج کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اسے دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی گئی۔ اسپتال میں جگہ نہ ہونے کے باعث بچی کو ایک ہفتے بعد نوزائیدہ بچوں کے یونٹ سے ڈسچارج کردیا گیا۔

یونیسیف کی امدادی کوششیں

غزہ میں نومولود بچوں کی طبی نگہداشت بحال کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے اسپتالوں کو انکیوبیٹرز، وینٹی لیٹرز اور مانیٹرز سمیت ضروری طبی آلات فراہم کرنا شروع کیے ہیں۔

یونیسیف کے مطابق جنگ بندی سے پہلے شروع ہونے والی امدادی سرگرمیوں سمیت غزہ کے 6 طبی مراکز کو اب تک 93 انکیوبیٹرز فراہم کیے جاچکے ہیں۔

تاہم یونیسیف کے مطابق ضروریات اب بھی بہت زیادہ ہیں اور نومولود بچوں کے لیے مزید طبی سہولیات اور سامان کی فوری ضرورت ہے۔ ادارے کے مطابق انتہائی مشکل حالات کے باوجود ڈاکٹرز اور طبی عملے کی مسلسل کوششوں سے غزہ میں نومولود بچوں کی نگہداشت کا نظام کسی حد تک چل رہا ہے۔