مصر اور سعودی عرب کا بحیرۂ احمر میں محفوظ بحری آمدورفت پر زور

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بحیرۂ احمر اور اہم آبنائے باب المندب میں بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

مصری ایوانِ صدر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران خطے کی سکیورٹی صورتحال اور یمن کے بحران سمیت اہم علاقائی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ صدر السیسی نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کا اظہار بھی کیا۔

مصر نے یمن کے بحران کے حل کے لیے جامع اور پائیدار سیاسی تصفیے کی کوششوں کی بھی حمایت کی۔ دونوں ممالک کے مؤقف میں بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کشیدگی کم کرنے اور تجارتی و بحری راستوں کو محفوظ رکھنے کی اہمیت نمایاں رہی۔

دوسری جانب یمن میں حکومت نواز فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق مغربی ساحلی علاقوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد اندرونِ یمن بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد نے اپنی جانیں بچانے کے لیے ملک سے باہر نقل مکانی کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق بڑھتی ہوئی جنگی کارروائیوں نے یمن کے مغربی ساحل پر بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی کو جنم دیا ہے۔ ہزاروں یمنی باب المندب عبور کرکے جبوتی پہنچنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

بحیرۂ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستے ہیں، اس لیے یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی نہ صرف مقامی آبادی کے لیے انسانی بحران پیدا کر رہی ہے بلکہ خطے میں بحری سلامتی اور عالمی تجارتی راستوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔