امریکا کی جانب سے پہلی مرتبہ یہ تصدیق کیے جانے کے بعد کہ اس نے زمین کے مدار میں خلائی ہتھیار تعینات کر رکھے ہیں، چین نے خبردار کیا ہے کہ خلا کو جنگ کا میدان بنانے سے گریز کیا جائے، جبکہ روس نے خلا کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے پاک رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
امریکی اسپیس فورس کے ایک ترجمان کے مطابق امریکا کے پاس مدار میں ایسے خلائی کنٹرول ہتھیار موجود ہیں جو دشمن کی کارروائیوں کے خلاف امریکی فوج کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم واشنگٹن نے یہ نہیں بتایا کہ کس نوعیت کے ہتھیار تعینات ہیں یا ان کی تعداد کتنی ہے۔
امریکی بیان کے مطابق خلائی کنٹرول میں ایسے متحرک اور غیر متحرک ذرائع شامل ہیں جن کے ذریعے مخالف کی خلائی صلاحیتوں کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر متحرک ذرائع میں سیٹلائٹس کو نقصان پہنچانے یا عارضی طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے لیزر، برقی مقناطیسی مداخلت اور سائبر حملے شامل ہو سکتے ہیں۔
چین کا سخت انتباہ
چین کی وزارت خارجہ نے امریکی اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے خلا کو ہتھیاروں کی دوڑ اور جنگی میدان میں تبدیل کرنے سے خبردار کیا ہے۔ چینی ترجمان گوو جیاکون نے امریکا پر زور دیا کہ وہ خلا میں اپنی فوجی صلاحیتوں میں توسیع اور جنگی تیاریوں کاگ پنگ کے مطابق امریکا کے پاس خلائی ہتھیار ہونے کی اطلاعات نئی نہیں بلکہ ط سلسلہ روکے۔
چینی عسکری تجزیہ کار سونگ ژونگ پنگ کے مطابق امریکا کے پاس خلائی ہتھیار ہونے کی اطلاعات نئی نہیں بلکہ طویل عرصے سے ایک کھلا راز تھیں۔ تاہم اب واشنگٹن کی جانب سے باضابطہ اعتراف کو امریکا خلا میں ہتھیاروں کی تعیناتی بڑھاتا ہے تو چین بھی خاموش نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے آئندہ اقدامات بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوں گے کہ امریکا خلا میں کس اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اگر امریکا خلا میں ہتھیاروں کی تعیناتی بڑھاتا ہے تو چین بھی خاموش نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے آئندہ اقدامات بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوں گے کہ امریکا خلا میں کس سمت آگے بڑھتا ہے۔
روس بھی میدان میں آگ پاک رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو بین الاقوامی اور جوابی خلائی صلاحیتوں کے حوالے سے مسابقت جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اعترافیا
روس نے بھی خلا کو ہتھیاروں سے پاک رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو بین الاقوامی سطح پر ایسی کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد خلا کی مکمل غیر عسکریت کو یقینی بنانا ہے۔
امریکا، چین اور روس کے درمیان پہلے ہی خلائی اور جوابی خلائی صلاحیتوں کے حوالے سے مسابقت جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اعتراف سے بڑی طاقتوں کے درمیان خلائی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ کیوں اہم ہے؟
سیٹلائٹس جدید جنگ میں مواصلات، نگرانی، انٹیلی جنس، میزائل رہنمائی اور نیویگیشن کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ کسی ملک کے سیٹلائٹس کو متاثر کرنا اس کی فوجی صلاح اور دیگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی ہے، تاہم معاہدے میں روایتی خلائی ہتھیاروں کی تمام اقسام پر واضح پابندی موجود نہیں۔ اسی وجہ سے ماہرین کے مطابق خلا میں فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے لیتیسا سیزاری کے مطابق یہ معاملہ نومبر میں اقوام متحدہ کے آئندہ تخفیفِ اسلحہ اجلاس میں بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔ روس اور چین طویل عرصے سے خلا میں ہتھیاروں کی تعیناتی روکیتوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
سال 1967 کے آؤٹر اسپیس ٹریٹی کے تحت مدار میں جوہری اور دیگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی ہے، تاہم معاہدے میں روایتی خلائی ہتھیاروں کی تمام اقسام پر واضح پابندی موجود نہیں۔ اسی وجہ سے ماہرین کے مطابق خلا میں فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم قانونی خلا موجود ہے۔
خلائی قانون کی ماہر لیتیسا سیزاری کے مطابق یہ معاملہ نومبر میں اقوام متحدہ کے آئندہ تخفیفِ اسلحہ اجلاس میں بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔ روس اور چین طویل عرصے سے خلا میں ہتھیاروں کی تعیناتی روکنے کے لیے نئے معاہدے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، جبکہ مغربی ممالک زیادہ تر ذمہ دارانہ رویے کے اصول وضع کرنے پر زور دیتے ہیں۔
امریکی اعلان کے بعد خدشہ ہے کہ ماسکو اور بیجنگ خلا میں ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے مزید سخت بین الاقوامی ضوابط کا مطالبہ تیز کر دیں گے۔


