جنگ کا ٹمہ قریب ہے ایران معاہدہ چاہتا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ

ایران جنگ کے ساتویں ماہ میں داخل ہوتے ہی تنازع کے دائرے میں مزید وسعت آ گئی ہے۔ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست لڑائی نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ سعودی طیاروں نے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی، جبکہ حوثیوں کی جانب سے سعودی شہروں پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حوثیوں کی جانب سے یمن کے بحیرۂ احمر سے متصل ساحلی علاقوں میں تیز رفتار پیش قدمی اور سعودی عرب پر حملوں نے جنگ کے علاقائی اثرات مزید نمایاں کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کی مشرقی اور مغربی آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچانے والی کارروائیوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تنازع کے یمن تک پھیلنے کے بعد امریکہ نے سعودی عرب کے لیے اپنا سفری انتباہ مزید سخت کر دیا ہے۔ امریکی حکومت نے اپنے ملازمین کو یمن کی سرحد سے 30 کلومیٹر کے اندر سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی کی اطلاعات کے چند گھنٹے بعد بدھ کی شام صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امید ہے کہ ہم جنگ کے اختتام کے قریب ہیں۔

ٹرمپ نے ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور کہا کہ انہیں ایران کی جانب سے براہِ راست پیغام بھی موصول ہوا ہے، تاہم امریکی صدر نے اس پیغام کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

جنگ کے باعث عالمی توانائی کی منڈی بھی دباؤ میں ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہونے سے تیل اور گیس کی عالمی فراہمی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تنازع سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔

یمن میں لڑائی کا نیا محاذ کھلنے سے یہ خطرہ مزید بڑھ گیا ہے کہ بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں توانائی کی ترسیل کے اہم راستے بیک وقت دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ نومبر میں امریکا میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل اور گیس کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا معاملہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے بھی ایک اہم سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔