بنگلا دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں مبینہ کرپشن کے معاملے پر مزید دو عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کے الزامات میں چارج کیا گیا ہے۔
کرک انفو کے مطابق رواں سال بی پی ایل میں مبینہ طور پر کھیل کو بدعنوان بنانے، کرپشن سے متعلق معلومات فراہم نہ والی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آئے۔
رواں ماہ کے آغاز میں بھی الیکس مارشل کی سربراہی میں بی سی بی کی انٹیگریٹی یونٹ نے تین افراد، جن میں بی سی بی کا ایک ڈائریکٹر بھی شاملئی سے بی پی ایل سے متعلق کرپشن کیسز میں چارج کیے جانے والے افراد کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔
بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے مطابق سابق فرنچائز چٹاگانگ رائلز کے مالک محمد عبدالقیوم راشد اور دربار راجشاہی و چٹاگانگ رائلز کے ٹیم عہدیدار امین خان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
دونوں پر آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکلز 2.1.1، 2.1.4، 2.4.6 اور 2.4.7 کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ دفعات مبینہ طور پر کھیل کو بدعنوان بنانے، کرپشن سے متعلق معلومات فراہم نہ کرنے، اینٹی کرپشن تحقیقات میں تعاون نہ کرنے اور تحقیقات میں رکاوٹ یا تاخیر سے متعلق ہیں۔
بی سی بی کے مطابق یہ الزامات بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی انٹیگریٹی یونٹ کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آئے، جن کا تعلق بی پی ایل کے 11ویں اور 12ویں ایڈیشنز سے ہے۔
راشد اور امین کو الزامات کے دوران عبوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔ دونوں کو الزامات موصول ہونے کی تاریخ سے 14 دن کے اندر اپنا جواب جمع کرانے کا حق دیا گیا ہے، جس کے بعد معاملہ مقررہ تادیبی عمل کے تحت آگے بڑھے گا۔
یہ بی پی ایل میں کرپشن کے خلاف جاری کارروائیوں کا تازہ مرحلہ ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں بھی الیکس مارشل کی سربراہی میں بی سی بی کی انٹیگریٹی یونٹ نے تین افراد، جن میں بی سی بی کا ایک ڈائریکٹر بھی شامل تھا، کے خلاف اسی نوعیت کے الزامات عائد کیے تھے۔


