ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لیے غیر مشروط عزم رکھتا ہے اور مملکت کے دفاع کے لیے ضرورت پڑنے پر کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
عرب نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی طور پر کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا عزم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ تک پھیلا ہوا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم کسی شرط کا پابند نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام، سیاسی قیادت اور افواج کے درمیان تاریخی اور دیرینہ تعلقات سے جڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے خلاف کسی بھی جارحیت کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد خطے میں جاری بحران کے حل کے لیے دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں ہے اور مذاکرات اور پرامن حل کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے دفاعی معاہدوں کے تحت اپنے وعدوں اور عزم پر قائم ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست 2026 میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے تھے، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ بھی طے پایا تھا۔ ان معاہدوں کی مکمل عملی تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی ہیں.
ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق حالیہ حملوں میں طائف میں ایک ڈرون کے ملبے سے ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے، جبکہ سعودی قیادت کی جانب سے مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون کو روکنے کی بھی اطلاع دی گئی
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تاہم یہ نہیں بتایا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے حالیہ صورتحال کے تناظر میں مزید فوجی دستوں، طیاروں یا فضائی دفاعی نظام کی باضابطہ درخواست کی ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ دفاعی ضمانتوں میں پاکستان کی جوہری صلاحیت کا کوئی کردار ہوگا یا نہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو بھی دہرایا اور کہا کہ افغان طالبان حکومت کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کو روکا جائے۔
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست کے مطابق عسکریت پسندوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں اور وہ اپنے نظریات کو طاقت کے ذریعے مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے مؤقف کے مطابق دہشت گردی کی بیرونی سرپرستی کی جارہی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر سرگرمیاں بھی بیرون ملک سے چلائی جارہی ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر ریاست کی پالیسی واضح ہے اور دہشت گردوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔



