اسرائیل کے خلاف برسرپیکار فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے وفد نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں متعدد فلسطینی دھڑوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کی ہیں، جن میں فلسطینی علاقوں میں ہونے والی حالیہ پیش رفت، ممکنہ انتخابات اور قومی اتحاد کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حماس کے مطابق وفد کی قیادت اس کے نیشنل ریلیشنز آفس کے سربراہ اور سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے کی۔ وفد نے فلسطینی اسلامی جہاد سمیت 7 فلسطینی دھڑوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔
حماس کے جاری کردہ بیان کے مطابق مذاکرات میں فلسطینی مسئلے سے متعلق تازہ صورتحال کے علاوہ قانون ساز انتخابات اور قومی کونسل کے انتخابات کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔
فریقین نے فلسطینی سیاسی قوتوں کے درمیان اختلافات کم کرنے اور قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی مشاورت کی۔ ملاقاتوں میں فلسطینی سیاسی عمل کے مستقبل اور مختلف دھڑوں کے درمیان مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینے پر زور دیا گیا۔
مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق
حماس کے مطابق اجلاس میں شریک فلسطینی دھڑوں نے ایک متحدہ قومی حکمت عملی پر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
حماس کے بیان کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد قبضے، یہودی بستیوں کی توسیع، مبینہ یہودی آباد کاری اور الحاق کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنا، غزہ پر عائد محاصرے کے خاتمے کے لیے کوششیں کرنا اور فلسطینی عوام کی مزاحمت و استقامت کو مضبوط بنانا ہے۔
قاہرہ میں ہونے والی یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب فلسطینی سیاسی منظرنامے میں انتخابات، غزہ کی صورتحال اور مختلف فلسطینی دھڑوں کے درمیان سیاسی اتفاق رائے کے سوالات اہمیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی دھڑے مشترکہ سیاسی لائحہ عمل اور انتخابی عمل سے متعلق معاملات پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم حماس کے بیان میں ان مذاکرات کے نتیجے میں کسی حتمی انتخابی تاریخ یا انتخابی طریقہ کار کا اعلان نہیں کیا گیا۔


