قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے بھارت کو وائٹ بال کرکٹ کا موجودہ معیار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا چیلنج اس معیار تک پہنچنا ہے، تاہم ممکنہ پاک بھارت مقابلے سے پہلے ٹیم کو دیگر میچز پر توجہ مرکوز رکھنا ہوگی۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے کہا کہ اگر ایشین گیمز میں بھارت کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا تو پاکستانی ٹیم اسے دباؤ میں لانے کی کوشش کرے گی، جیسا کہ گزشتہ ایشیا کپ کے فائن کامیابیاں حاصل کیں، تاہم بھارت کے ہاتھوں اسے تین مرتبہ شکست ہوئی، جن میں فائنل بھی شامل تھا۔ بھارت کے خلاف پاکستان کیوں کو فائنل تک پہنچنے سے پہلے کئی مراحل سے گزرنا ہوگا، اس لیے پاکستان ابھی سے بھارت رنرز اپ ٹیم کے خلاف کوارٹر فائنل سے اپنی مہم شروع کرے گا۔ یہ رواں سال ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے سے باہر کے نتیجے میں ممکن ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے صرف اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ دبئی اور امریکہ سمیت مختلف مق کا تناسب دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے ٹی 20 ٹیم کو بحران کا پاکستان کو حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سواری کے دوران ترقی کے مرحلے میں ہے اور گزشتہ 12 ماہ میں کارکردگی میں بہتری آئی ہے، تاہمل میں بھی کیا گیا تھا۔
مائیک ہیسن نے کہا کہ اس وقت وائٹ بال کرکٹ میں بھارت بینچ مارک ہے اور ہمارا چیلنج اس معیار تک پہنچنا ہے۔ دونوں ٹیموں کو فائنل تک پہنچنے سے پہلے کئی مراحل سے گزرنا ہوگا، اس لیے پاکستان ابھی سے بھارت کے ممکنہ مقابلے کے بارے میں زیادہ آگے کی سوچ نہیں رکھ رہا۔
پاکستان ایشین گیمز کی کرکٹ میں چار سیڈڈ ٹیموں میں شامل ہے۔ دیگر سیڈڈ ٹیمیں بھارت، سری لنکا اور بنگلا دیش ہیں۔
پاکستان 28 ستمبر کو گروپ بی کی رنرز اپ ٹیم کے خلاف کوارٹر فائنل سے اپنی مہم شروع کرے گا۔ یہ رواں سال ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے سے باہر ہونے کے بعد پاکستان کا پہلا ٹی 20 انٹرنیشنل ہوگا۔
ایشین گیمز کے لیے پاکستان کی قیادت صاحبزادہ فرحان کریں گے، جبکہ اسکواڈ میں نوجوان کھلاڑیوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
ہیسن نے پاکستان کی حالیہ مجموعی کارکردگی کو تینوں فارمیٹس کو ملا کر جانچنے سے اختلاف کیا۔ انہوں نے خاص طور پر ٹی 20 ٹیم کی گزشتہ 15 ماہ کی کارکردگی کا دفاع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جب انہوں نے ذمہ داری سنبھالی تو ٹی 20 کرکٹ میں عالمی سطح پر آٹھویں نمبر پر تھا، جبکہ اب ٹیم پانچویں نمبر تک پہنچ چکی ہے۔
ہیسن کے مطابق ٹیم نے اس عرصے میں تقریباً 30 رینکنگ پوائنٹس حاصل کیے، جو سیریز جیتنے کے نتیجے میں ممکن ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے صرف اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ دبئی اور امریکہ سمیت مختلف مقامات پر بھی ٹی 20 سیریز جیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 ماہ میں ٹی 20 ٹیم کی جیت کا تناسب دنیا کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے ٹی 20 ٹیم کو بحران کا شکار قرار دینا درست نہیں۔
مائیک ہیسن نے انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ فارمیٹ میں پاکستان ٹیم جدوجہد کر رہی ہے اور اس صورتحال سے سب واقف ہیں۔ پاکستان کو حالیہ عرصے میں بنگلا دیش اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کلین سوئپ کا سامنا کرنا پڑا۔
ایک روزہ کرکٹ کے بارے میں ہیسن نے کہا کہ ٹیم ورلڈ کپ کی تیاری کے دوران بہتری کی جانب گامزن ہے اور گزشتہ 12 ماہ میں کارکردگی میں بہتری آئی ہے، تاہم ٹیم کو ابھی مکمل تیار شدہ ٹیم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مائیک ہیسن کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی تینوں فارمیٹس کی کارکردگی کو ایک ہی پیمانے سے نہیں پرکھنا چاہیے؛ ٹیسٹ میں مشکلات اپنی جگہ، جبکہ ٹی 20 میں ٹیم کی درجہ بندی اور سیریز کے نتائج گزشتہ 15 ماہ میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔


