امریکامیں بھاری نقصان پہنچانے والے کیڑے کی یورپی یونین میں موجودگی:ہنگری میں قرنطینہ اقدامات

بڈاپسٹ: امریکا میں زرعی شعبے کو بھاری نقصان پہنچانے والے حملہ آور کیڑے ’اسپاٹڈ لینٹرن فلائی‘ کی یورپی یونین میں پہلی بار موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ہنگری کے ادارے برائے فوڈ سیفٹی نے تایا کہ یہ کیڑا ملک کے جنوبی علاقے میں دریافت ہوا ہے، جس کے بعد حکام نے قرنطینہ کے ضروری اقدامات شروع کردیے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسپاٹڈ لینٹرن فلائی، جس کا سائنسی نام لائیکورما ڈیلیکیٹولاہے، جنوب مشرقی ایشیا سے تعلق رکھتا ہے اور تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کیڑا انگور کی بیلوں، پھل دار درختوں اور دیگر فصلوں کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

ہنگری کے فوڈ سیفٹی ادارے نیبِہ (Nebih) کے مطابق کیڑے کی موجودگی کی تصدیق ملک کے جنوبی علاقے باچ-کِشکون کاؤنٹی میں ہوئی، جو سربیا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ادارے نے اسے ہنگری اور یورپی یونین میں اس کیڑے کی پہلی تصدیق شدہ دریافت قرار دیا ہے۔

فصلوں اور پھل دار درختوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ

رپورٹ کے مطابق ایک مقامی شہری نے کیڑے کو دیکھ کر حکام کو اطلاع دی تھی، تاہم وہ اس کی نسل کی شناخت نہیں کرسکا۔ بعد ازاں لیبارٹری ٹیسٹ میں اس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد حکام نے قرنطینہ کے اقدامات شروع کردیے۔

فوڈ سیفٹی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس کیڑے کو علاقے میں مستقل طور پر پھیلنے سے روکنے کے لیے عوام کی نگرانی اور بروقت اطلاع دینا انتہائی اہم ہے۔ اس کی بڑی تعداد میں موجودگی پودوں کو کمزور کرسکتی ہے اور بیماریوں و دیگر نقصان دہ کیڑوں کے پھیلاؤ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق اسپاٹڈ لینٹرن فلائی پہلی بار 2014 میں امریکی ریاست پنسلوانیا میں دریافت ہوا تھا۔ ماہرین کے مطابق چین سے آنے والی پتھر کی ایک کھیپ میں اس کے انڈوں کا مجموعہ ملا تھا۔

2020 سال2020میں پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ اس کیڑے کے باعث پنسلوانیا میں سالانہ 554 ملین ڈالر کا نقصان اور تقریباً 5 ہزار ملازمتوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے