سڑکیں بند ہوں یا رکاوٹیں، پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل نہیں رکنی چاہیے، وزیر پیٹرولیم

اسلام آباد: وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی اور وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

وزیر پیٹرولیم کی زیر صدارت اجلاس میں ایندھن کی دستیابی، ترسیل کے انتظامات اور فیول ریلیف اسکیم کے تحت پیٹرول پمپس کو ادائیگیوں کا جائزہ لیا گیا۔ علی پرویز ملک نے ہدایت کی کہ سڑکوں کی بندش یا دیگر ممکنہ رکاوٹوں کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل متاثر نہیں ہونی چاہیے اور تمام متعلقہ ادارے سپلائی برقرار رکھنے کے لیے بروقت اقدامات کریں۔

وزیر پیٹرولیم نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو ڈپوز پر ایندھن کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ تعطل سے نمٹنے کے لیے سپلائی چین کے تمام مراحل پر پیشگی تیاری ضروری ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے لیے بھی خصوصی اقدامات کرنے پر زور دیا۔

اجلاس میں ایڈیشنل سیکریٹری ریلوے نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ریلویز ڈیزل کی ترسیل کے لیے زیادہ بوگیاں فراہم کرے گی، تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل میں کسی ممکنہ رکاوٹ سے بچا جا سکے۔

پی ایس او حکام نے بتایا کہ ممکنہ تعطل کے پیش نظر اہم ڈپوؤں پر اضافی ذخیرہ پہلے ہی کر لیا گیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے اٹک ریفائنری کو خام تیل کی فراہمی یقینی بنانے اور ریفائنری کی تیار کردہ مصنوعات کی ترسیل کے لیے بھی ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

دوسری جانب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی کی نگرانی کے لیے خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیا ہے۔

اجلاس کو وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں اسکیم سے منسلک 10 ہزار پیٹرول پمپس میں سے 8 ہزار 500 کو ادائیگیاں کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی ادائیگیوں کا عمل روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔

علی پرویز ملک نے ہدایت کی کہ اکاؤنٹ نمبرز کے مسائل اور دیگر رکاوٹیں فوری طور پر دور کرکے باقی پیٹرول پمپس کو بھی ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں۔ انہوں نے اوگرا کو یہ بھی ہدایت کی کہ فیول ریلیف کے اہل صارفین کو سہولت سے محروم کرنے والے پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کی جائے۔