کراچی: پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کا منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور اس تبدیلی میں بینک اسلامی کا اے آئی سے لیس پلیٹ فارم ٭٭ایک٭٭ نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے ایک تجربہ کار نام اشفاق احمد کا ہے جو بطور چیف آفیسر، ٭٭ایک٭٭کی قیادت کر رہے ہیں۔
بینکنگ، انشورنس، مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں 27 سال سے زائد کا وسیع تجربہ رکھنے والے اشفاق احمد نے روایتی بینکنگ کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر کے اسلامی بینکنگ کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ ان کی قیادت میں aik نے وہ کر دکھایا جو عام طور پر کئی سالوں میں ہوتا ہے، یعنی لانچ کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لی۔
ایک کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ اس کا کسٹمر سینٹرک ماڈل ہے۔ اشفاق احمد کا پلے بک بالکل واضح ہے، صارف کے لیے آسان آن بورڈنگ، حقیقی مالی ضروریات کے لیے مختلف سہولیات اور جدید فیچرز۔ ان میں ایک دین جیسا فیچر شامل ہے جو صارفین کو شریعت کے مطابق سہولیات فراہم کرتا ہے۔
ایک پے ڈائنامک کیو آر کوڈ کے ذریعے فوری اور محفوظ ادائیگیوں کو ممکن بناتا ہے، اور ایک کنیکٹ تمام بینکنگ سروسز کو ایک جگہ جوڑ دیتا ہے۔

یہ پلیٹ فارم شریعہ کمپلائنٹ اوپن بینکنگ اور ای کامرس کے لیے ڈی کیوآرسی جیسی سہولت بھی دیتا ہے جو شاپی فائی جیسے پلیٹ فارمز کے لیے نہایت مفید ہے۔
ایک سے پہلے اشفاق احمد بینک اسلامی میں بطور چیف انفارمیشن آفیسر (سی آئی او) خدمات سرانجام دے چکے ہیں جہاں انہوں نے بینک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا۔ اس سے قبل ای ایف یو میں اپنے دور میں انہوں نے پاکستان میں انشورنس سیکٹر کا پہلا آرپی اے یعنی روبوٹک پراسسیشن آٹو میشن سسٹم متعارف کروا کر تاریخ رقم کی اور آئی ایس او 27001 اور آئی ایس او 38500 جیسے عالمی سرٹیفیکیشنز حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ٹیکنالوجی پر گہری نظر اور فنانشل گورننس پر مضبوط گرفت کی وجہ سے وہ کئی معروف اداروں کے بورڈ کا حصہ بھی ہیں۔ ان کا وژن صرف ایک ایپ بنانا نہیں بلکہ ایک ایسا قابل اعتماد، جامع اور جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام بنانا ہے جو ہر پاکستانی کی پہنچ میں ہو اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہو۔
وسیق تناظر میں دکھا جائے تو درحقیقت اشفاق احمد جیسے لیڈرز ہی پاکستان میں فِن ٹیک کے مستقبل کو تشکیل دے رہے ہیں جہاں جدت، اعتماد اور شمولیت ایک ساتھ چلتے ہیں۔


